World
یمن میں کشیدگی، حوثی فورسز کی باب المندب کی طرف پیش قدمی
یمن میں ایک بار پھر عسکری کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے جہاں حوثی فورسز نے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل باب المندب آبنائد کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ اس تازہ ترین صورتحال نے خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یمن میں ایک طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے بعد ایک بار پھر خونریز لڑائی دوبارہ بھڑک اٹھی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حوثی فورسز نے ملک کے جنوبی علاقوں کی طرف پیش قدمی تیز کر دی ہے، جس کا مقصد انتہائی اہم اور اسٹریٹجک سمندری گزرگاہ باب المندب آبنائد پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس پیشرفت نے نہ صرف یمنی تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ بین الاقوامی بحری تجارت اور خطے کی سلامتی کے لیے بھی ایک نیا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ باب المندب آبنائد دنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے تیل اور دیگر اشیائے خوردونصیر کے جہاز روزانہ گزرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نئی پیش قدمی سے یمن میں جاری خانہ جنگی کے ایک نئے اور خطرناک باب کا آغاز ہو گیا ہے۔ فریقین کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو یمن کے عوام کو ایک بار پھر شدید انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جہاں پہلے ہی خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی قلت پائی جاتی ہے۔
اس صورتحال نے علاقائی اور عالمی طاقتوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ عالمی برادری کی طرف سے فریقین سے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر تنازعے کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔ اقوام متحدہ اور دیگر سفارتی ادارے اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ لڑائی کو مزید پھیلنے سے روکا جائے اور باب المندب آبنائد جیسی اہم گزرگاہ کو کسی بھی عسکری تصادم کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔
یمن کا موجودہ بحران کئی سالوں کی سیاسی عدم استحکام اور بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ حالیہ پیش قدمی نے ثابت کر دیا ہے کہ اس خطے میں پائیدار امن کا قیام ابھی بھی ایک چیلنج ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ حوثی فورسز کی اس پیش قدمی کا مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے اور کیا سفارتی کوششیں اس نئی جنگ کو روکنے میں کامیاب ہو پاتی ہیں یا نہیں۔