LIVE
Loading Breaking News...

امریکی عدالت کا ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے نئے قواعد پر فیصلہ

News Image
امریکی عدالتِ اپیل نے نومبر کے انتخابات سے قبل ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے نظام میں تبدیلی کی حکومتی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہ فیصلہ موجودہ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو انتخابی قواعد میں تبدیلی چاہتی تھی۔
امریکہ کی ایک اپیل عدالت نے نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل ڈاک کے ذریعے ووٹنگ یعنی میل ان ووٹنگ کے نئے قوانین نافذ کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ انتظامیہ کے ان اقدامات کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو وہ ملک بھر میں انتخابی طریقہ کار بالخصوص ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے کر رہی تھی۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کہ امریکہ میں کس طرح لاکھوں ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ انتخابات سے پہلے ووٹنگ کے طریقہ کار میں کچھ ایسے نئے ضابطے لائے جائیں جن سے عمل کو مزید مانیٹر کیا جا سکے، تاہم عدالت نے ان تبدیلیوں کو فی الحال روک دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب تمام متعلقہ اداروں اور انتخابی کمیشن کی نظریں آئندہ کے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس حکم پر بحث شروع ہو چکی ہے کیونکہ ووٹرز کی بڑی تعداد اس بار کورونا وائرس اور دیگر وجوہات کی بنا پر ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس پر دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چلا آ رہا ہے۔