LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ اور یمن تنازعہ

News Image
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ نئے دفاعی معاہدے کے تحت کسی بھی فوجی کارروائی یا ردعمل پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ حکومت کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کی سکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے کہ آیا وہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ ہونے والے نئے دفاعی معاہدے کے تحت یمن کے تنازع میں کسی قسم کی فوجی مداخلت یا ردعمل کا حصہ بنے گا۔ حکارتی ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے حوالے سے ابھی تک کسی بھی عسکری کارروائی یا جنگی حکمت عملی پر کوئی بات چیت نہیں کی گئی۔ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دفاعی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس معاہدے کے ممکنہ خطاتی اثرات پر تبصرے کیے جا رہے تھے۔ حالیہ برسوں میں خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سکیورٹی تعاون میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسی تناظر میں مکہ معاہدے یا اس نوعیت کے دیگر دفاعی تعاون کے فریم ورک کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، پاکستانی حکام نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں باہمی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہے نہ کہ کسی بیرونی تنازع کا حصہ بننا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان روایتی طور پر خطے کے تنازعات سے دور رہنے اور امن کی سفارت کاری کو فروغ دینے کی پالیسی پر گامزن رہا ہے۔ یمن کا تنازع برسوں سے مشرق وسطیٰ کی سیاست کا ایک حساس ترین موضوع رہا ہے، اور پاکستان کی یہ دیرینہ پالیسی رہی ہے کہ وہ مسلم ممالک کے باہمی اختلافات میں مصالحانہ کردار ادا کرے نہ کہ کسی ایک فریق کا ساتھ دے کر تنازع کو مزید ہوا دے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان کے بعد ان تمام افواہوں کو بڑی حد تک رد کر دیا گیا ہے جن میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ مذکورہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص عسکری مہم جوئی کا حصہ ہے۔ اسلام آباد میں پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ دفاعی معاہدے محض دفاعی استعداد کار بڑھانے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے ہوتے ہیں، اور پاکستان خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے والے کسی اقدام کا حصہ نہیں بنے گا۔