World
روسی فوج میں غیر ملکیوں کی جببر بھرتی، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روس میں غیر ملکی شہریوں کو ملازمتوں کے جھانسے دے کر لایا جا رہا ہے۔ روس پہنچنے کے بعد ان افراد کو مبینہ طور پر یوکرین کے خلاف جنگ میں لڑنے کے لیے زبردستی فوج میں شامل کیا جا رہا ہے۔
عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک سنگین الزام عائد کیا ہے کہ روس میں غیر ملکی شہریوں کو بہتر ملازمتوں اور روزگار کے پرکشش مواقع کا جھانسہ دے کر بلایا جاتا ہے اور روس پہنچنے کے بعد انہیں یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں زبردستی لڑنے کے لیے روسی فوج کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والی اس رپورٹ نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ معصوم شہریوں کو دھوکے سے جنگی زون میں دھکیلا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، روزگار کی تلاش میں آنے والے ان غیر ملکیوں کو ابتدائی طور پر سول ملازمتوں یا دیگر پرکشش پیشکشوں کا یقین دلایا جاتا ہے، لیکن روس پہنچتے ہی ان کے پاسپورٹ اور دیگر اہم دستاویزات مبینہ طور پر ضبط کر لی جاتی ہیں۔ اس کے بعد انہیں شدید دباؤ، دھمکیوں اور جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ عسکری تربیت حاصل کرنے اور براہ راست میدان جنگ میں اترنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس طریقۂ کار کو انسانی اسمگلنگ کی ایک خطرناک نئی شکل قرار دیا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر مختلف انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی رہنماؤں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حربے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ متاثرہ افراد کے اہل خانہ بھی اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے سخت پریشان ہیں اور عالمی برادری سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اس جبری بھرتی کے عمل کو رکوانے کے لیے روس پر سفارتی دباؤ ڈالے تاکہ بے قصور غیر ملکی شہریوں کو اس خونی تنازع سے نکالا جا سکے۔