World
اٹلی کا انسدادِ یہودیت بل اور اقوام متحدہ کی مبصر فرانسیسکا البانی کی تنبیہ
اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسیسکا البانی اور روم میں مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اٹلی کا متنازعہ انسدادِ یہودیت بل اسرائیل پر تنقید کو دبانے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس مجوزہ قانون سازی کے خلاف انسانی حقوق کے کارکنوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادیِ اظہارِ رائے پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
روم میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اور اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر برائے انسانی حقوق فرانسیسکا البانی نے اٹلی میں زیرِ غور متنازعہ انسدادِ یہودیت بل پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین اور مظاہرین کا ماننا ہے کہ یہ نیا قانون دراصل اسرائیل کی پالیسیوں پر ہونے والی تنقید کو مجرمانہ رنگ دینے اور اسے دبانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستِ اسرائیل کی مذمت اور یہود دشمنی کے درمیان واضح لکیر موجود ہے جسے ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔
اٹلی کے دارالحکومت روم میں جمع ہونے والے مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا کر حکومت کے اس اقدام کے خلاف نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے نفاذ سے بنیادی انسانی حقوق بالخصوص آزادیِ اظہارِ رائے کو شدید دھچکا لگے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس بل پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسودے پر نظر ثانی کرے تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو سلب ہونے سے بچایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کی مبصر فرانسیسکا البانی نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی ملک کی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے قوانین کو قانون سازی کی شکل دی گئی تو اس سے نہ صرف جمہوری اقدار کو نقصان پہنچے گا بلکہ قانون کے غلط استعمال کے دروازے بھی کھل جائیں گے۔ مظاہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس بل کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔