Business
پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نیا اضافہ
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل مہنگا کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ کے روز سے کر دیا گیا ہے جبکہ محصولات بدستور برقرار ہیں۔
وفاقی حکومت نے جمعرات کے روز ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے جس کے تحت پٹرول کی قیمت میں 3.05 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5.37 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ کے روز سے کر دیا گیا ہے۔ قیمتوں میں اس تازہ ترین اضافے کے بعد پٹرول کی نئی پرچون قیمت 370.80 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 398.04 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے پٹرول پر فی لیٹر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے کے ٹیکسز اور ڈیوٹیز بدستور وصول کیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اپریل کے اوائل میں بین الاقوامی مارکیٹ کے حالات اور تنازعات کی وجہ سے قیمتیں بلند ترین سطح پر چلی گئی تھیں، جن میں بعد ازاں کچھ کمی بھی دیکھی گئی تھی۔ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کا اختیار اوگرا کو سونپ رکھا ہے تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کو فوری طور پر اپنایا جا سکے۔ پیٹرول بنیادی طور پر نجی گاڑیوں، چھوٹی سواریوں، رکشوں اور موٹر سائیکل سواروں کے زیرِ استعمال ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہِ راست متوسط اور ن unteren طبقے کو متاثر کرتا ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی بھی بڑے پیمانے پر اثرات مرتب کرتی ہے کیونکہ یہ ہیوی ٹرانسپورٹ سیکٹر، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے۔ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ملکی معیشت میں سب سے زیادہ ریونیو دینے والے ذرائع ہیں جن کی ماہانہ فروخت لاکھوں ٹن تک پہنچتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں جاری کشیدگی اور تیل کی سپلائی کے خدشات کی وجہ سے قیمتوں میں یہ ردوبدل کیا گیا ہے تاکہ ملکی معاشی استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔