LIVE
Loading Breaking News...

وزیر اعظم کا محمود خان اچکزئی کو نئے CEC پر مشاورت کی دعوت

News Image
وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے باضابطہ طور پر مشاورت کی دعوت دی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے سیاسی مفاہمت کی ضرورت پر زور دینے کے بعد اس اقدام کو ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی ڈیڈلاک ختم کرنے اور باضابطہ مکالمے کا آغاز کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو نئے چیف الیکشن کمشنر (CEC) کی تقرری کے لیے مشاورت کی دعوت دی ہے۔ وزیر اعظم کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ قدم ملک میں سیاسی استحکام اور آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں اٹھایا گیا ہے۔ تاہم، خبر لکھے جانے تک اپوزیشن لیڈر کی جانب سے وزیر اعظم کی اس دعوت پر کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دعوت ایسے وقت میں دی گئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی طرف سے اسلام آباد کی طرف ممکنہ لانگ مارچ کی تیاریاں جاری ہیں۔ چند روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر سردار ایاز صادق نے بھی ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور استحکام کی شدید ضرورت پر زور دیتے ہوئے خواہش ظاہر کی تھی کہ وزیر اعظم اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں اور نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے اپوزیشن لیڈر کو مشاورتی عمل میں شامل کریں۔ دوسری جانب، پی ٹی آئی کی قیادت نے اس معاملے پر تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور پارٹی کے کسی بھی سینئر رہنما نے وزیر اعظم کی اس دعوت پر فی الحال کھل کر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ یاد رہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی پانچ سالہ آئینی مدت گزشتہ برس جنوری میں ختم ہو چکی ہے۔ اپریل 2022 میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے سکندر سلطان راجہ کا کردار سیاسی حلقوں میں متنازع رہا ہے، اور اپوزیشن جماعت بالخصوص پی ٹی آئی کی طرف سے ان پر حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی مبینہ حمایت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا سب سے بڑا شکوہ یہ تھا کہ عام انتخابات کے دوران ان کی جماعت سے انتخابی نشان 'بلا' واپس لے لیا گیا تھا جس سے ووٹرز میں الجھن پیدا ہوئی اور بعد میں آزاد ارکان کو حکمران اتحاد میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ آئین کے آرٹیکل 213 کی شق 2 الف کے مطابق وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے پارلیمانی کمیٹی کو منظوری کے لیے تین نام ارسال کرنا ہوتے ہیں۔ اس سے قبل اگست میں محمود خان اچکزئی نے بھی وزیر اعظم کو ایک خط لکھ کر نئے چیف الیکشن کمشنر اور سندھ و بلوچستان کے ارکان کی تقرری کا مطالبہ کیا تھا۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تحت موجودہ الیکشن کمشنر اور ارکان اپنے عہدوں پر اس وقت تک کام جاری رکھے ہوئے ہیں جب تک ان کے جانشینوں کا تقرر عمل میں نہیں آ جاتا۔