LIVE
Loading Breaking News...

قومی اسمبلی آئی ٹی کمیٹی کا موبائل سروسز پر اظہارِ برہمی اور ایپل کی پاکستان آمد پر زور

News Image
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ملک میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کے خراب معیار پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس کے دوران حکام نے بتایا کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کو پاکستان کی مینوفیکچرنگ مارکیٹ میں لانے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس کے دوران ملک بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کے ناقص معیار پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین سید امین الحق نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صارفین کو ایک کال ملانے کے لیے بھی تین تین بار کوشش کرنا پڑتی ہے جو کہ موجودہ نظام کی خرابی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اسپیکٹرم نیلامی کے بعد موبائل سروسز میں بہتری آنے کے بجائے صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ کمیٹی نے پی ٹی اے کی جانب سے کمپنیوں پر ناکافی جرمانے عائد کرنے اور صرف شو کاز نوٹسز پر اکتفا کرنے پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔ اجلاس کے دوران اراکین نے ملک کے مختلف علاقوں اور سرکاری اسپتالوں میں سگنلز غائب ہونے کی شکایات کیں اور فیصلہ کیا گیا کہ تمام ٹیلی کام کمپنیوں کے سربراہان کو آئندہ اجلاس میں طلب کر کے براہ راست جواب طلبی کی جائے گی۔ پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ سروس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل سروے کر رہے ہیں اور کمپنیوں کو نیٹ ورک بہتر کرنے کے لیے تیس دن کا وقت دیا گیا ہے۔ تاہم، کمپنیوں کی جانب سے عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کرنے کی وجہ سے قانونی کارروائی میں تاخیر ہوتی ہے۔ اجلاس کا ایک اور اہم نکتہ معروف عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کو پاکستان کی مارکیٹ میں لانے کے حوالے سے تھا۔ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حماد منصور نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایپل کو پاکستان کی مینوفیکچرنگ مارکیٹ میں لانے کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وزیراعظم کے آئندہ دورہ امریکہ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور ایپل کے سی ای او جان ٹرنَس کے درمیان ملاقات کرانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں اس وقت سنتتیس کمپنیاں موبائل فونز بنا رہی ہیں اور اب تک ساڑھے تین کروڑ سے زائد آلات مقامی سطح پر تیار کیے جا चुके ہیں، اور ایپل واحد بڑی کمپنی ہے جو ابھی تک اس مینوفیکچرنگ دوڑ میں شامل نہیں ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارتِ آئی ٹی اور پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں تاکہ ملک میں اسمارٹ فونز کی صنعت کو مزید وسعت دی جا سکے۔ موبائل فونز پر عائد ٹیکسز اور ان کی اقساط میں ادائیگی کے معاملے پر بھی اراکین نے تفصیلی بحث کی۔ پی ٹی اے حکام نے واضح کیا کہ فونز پر ٹیکس عائد کرنے یا اقساط کا نظام بنانے میں اتھارٹی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے کیونکہ یہ تمام امور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ تاہم، اراکین کا اصرار تھا کہ اس حوالے سے صارفین کے لیے آسانی پیدا کی جانی چاہیے تاکہ ہر شہری کی رسائی ایک اچھے اسمارٹ فون تک ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ ٹیلی کمیونیکیشن کے بنیادی ڈھانچے کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور اسے انڈسٹریل ٹیرف دینے کا معاملہ بھی زیر بحث لایا گیا، کیونکہ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے انٹرنیٹ اور موبائل سگنلز شدید متاثر ہوتے ہیں جس سے فری لانسرز اور عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔