LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں مہاجر مخالف مظاہرین کی پاکستانی انڈر 19 ٹیم کے ہوٹل پر غلط فہمی میں نعرے بازی

News Image
برطانیہ کے شہر پورٹسماؤتھ میں مہاجر مخالف مظاہرین نے غلط فہمی کی بنیاد پر پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ہوٹل کے باہر احتجاج کیا۔ مقامی پولیس اور ایک مقامی کونسلر کی بروقت مداخلت کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔
برطانیہ کے جنوبی علاقے میں مہاجر مخالف مظاہرین نے غلط فہمی کی بنا پر پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ہوٹل کا گھیراؤ کر لیا۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ پورٹسماؤتھ کے شمالی علاقے میں واقع ایک ہوٹل کے باہر پیش آیا، جہاں مظاہرین نے نوجوان پاکستانی کھلاڑیوں کو پناہ گزین سمجھ کر احتجاج کیا۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی جب ملک بھر میں تارکین وطن کی آمد اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے پناہ گزینوں کا مسئلہ ایک انتہائی حساس سیاسی موضوع بن چکا ہے۔ منگل کی شام کو پیش آنے والے اس واقعے کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وہ افواہیں تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پورٹسماؤتھ کے کوشام کے علاقے میں واقع میرٹ ہوٹل کے باہر ایشیائی نوجوانوں سے بھری ایک بس دیکھی گئی ہے۔ اس اطلاع کے بعد درجنوں افراد ہوٹل کے باہر جمع ہو گئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ تاہم، موقع پر موجود مہاجر مخالف جماعت 'ریفارم یو کے' کے ایک کونسلر اور پولیس حکام نے مظاہرین سے بات چیت کی اور انہیں حقیقت سے آگاہ کیا۔ مقامی پولیس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ افسران نے موقع پر پہنچ کر عوام کے خدشات سنے اور انہیں واضح کیا کہ ان کے خدشات بے بنیاد ہیں۔ پولیس کے مطابق تقریباً تیس افراد پر مشتمل یہ ہجوم کچھ دیر بعد پرامن طور پر منتشر ہو گیا اور اس دوران کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ واقعے کے بعد سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس عمل کی شدید مذمت کی ہے۔ 'اسٹینڈ اپ ٹو ریسزم' کے قومی آرگنائزر مائیکل بریڈلی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مہاجرین اور تارکین وطن کو نشانہ بنانے کے منفی رجحانات کہاں تک لے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کو محض اس شک کی بنیاد پر احتجاج کا سامنا کرنا پڑے کہ وہ مہاجرین ہو سکتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ شہر میں آنے والا ہر سیاہ فام یا ایشیائی شخص انتہا پسندوں کے لیے ہدف بن سکتا ہے۔