LIVE
Loading Breaking News...

حماد اظہر کی ملاقات کے لیے عدالت میں درخواست دائر

News Image
پاکستان تحریک انصاف کے گرفتار رہنما حماد اظہر کی والدہ اور اہلیہ نے پولیس کی جانب سے ملاقات نہ کرانے کے خلاف لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ زیر حراست ملزم کو اپنے اہل خانہ اور وکلاء سے ملنے کا قانونی حق حاصل ہے۔
لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے گرفتار رہنما حماد اظہر کی والدہ اور اہلیہ نے جمعرات کے روز پولیس کی جانب سے ملاقات اور وکلاء تک رسائی نہ دینے کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) سے رجوع کر لیا ہے۔ حماد اظہر کی والدہ عشرت اظہر اور اہلیہ مریم حماد کی جانب سے یہ مشترکہ درخواست ان کے وکیل ابوذر سلمان نیازی کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔ عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس کی طرف سے حماد اظہر کے اہل خانہ اور ان کے قانونی مشیر کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، حالانکہ قانون کے مطابق زیر حراست ہر ملزم کو اپنے وکیل اور خاندان سے ملاقات کا بنیادی حق حاصل ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس کا یہ رویہ اور اقدام قانون کے صریحاً خلاف ہے، اس لیے عدالت متعلقہ حکام کو سخت احکامات جاری کرے تاکہ وہ بلا رکاوٹ حماد اظہر سے ان کے اہل خانہ اور وکلاء کی ملاقات یقینی بنا سکیں۔ یاد رہے کہ پیر کے روز انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے دوران جناح ہاؤس پر حملے کے مقدمے میں حماد اظہر کو اکیس روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ حماد اظہر کو مبینہ طور پر گزشتہ ہفتے ملتان سے گرفتار کر کے لاہور پولیس کے حوالے کیا گیا تھا، جبکہ اس سے قبل وہ 9 مئی کے متعدد مقدمات میں ٹرائل عدالتوں کی طرف سے اشتہاری بھی قرار دیے جا چکے تھے۔ جنوری کے مہینے میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے گئے لیکن وہ مسلسل غیر حاضر رہے اور گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ رواں سال مارچ کے مہینے میں راولپنڈی کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں حماد اظہر سمیت پاکستان تحریک انصاف کے 46 دیگر رہنماؤں کو دس دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں تمام مجرمان پر پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے اور ان کی جائیدادیں ریاست کی تحویل میں ضبط کرنے کے احکامات بھی صادر کیے تھے۔ موجودہ قانونی چارہ جوئی کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت حماد اظہر کے اہل خانہ کی اس درخواست پر کیا فیصلہ صادر کرتی ہے اور پولیس کو ملاقات کے حوالے سے کیا ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔