AI
مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو خطرہ، سابق اینتھروپک محقق کا انکشاف
مصنوعی ذہانت کے ایک سابق محقق نے انتباہ جاری کیا ہے کہ 2030 تک جدید اے آئی ٹیکنالوجی انسانوں کے خاتے کی وجہ بن سکتی ہے۔ تاہم ماہرین اور ٹیک انڈسٹری میں اس خوفناک دعوے پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی کے حامیوں اور اس سے جڑے خطرات سے خبردار کرنے والوں کے درمیان بحث ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک کے ایک سابق محقق اور ملازم نے انتہائی تشویشناک انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیز رفتار سے ترقی کرتی ہوئی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی 2030 تک انسانیت کے لیے مکمل خاتمے کا خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس بات کا دس فیصد سے زائد امکان موجود ہے کہ بے قابو اے آئی نظام مستقبل میں انسانی وجود کو ہی مٹا دے گا۔ اس خوفناک انکشاف کے بعد عالمی میڈیا اور قانون ساز اداروں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس محقق نے اس سنگین خطرے کے پیش نظر اپنے کمپنی کے تمام حصص اور مالی فوائد کو بھی قربان کر دیا تاکہ وہ بغیر کسی دباؤ کے اس غیر معمولی خطرے کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ اے آئی کمپنیاں جس تیزی سے طاقتور ماڈلز تیار کر رہی ہیں، اس پر کسی قسم کا مؤثر ضابطہ اخلاق یا حکومتی کنٹرول موجود نہیں ہے، جو مستقبل میں انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وِسل بلور کے اقدام کو کئی حلقوں میں سراہا گیا ہے جبکہ قانون سازوں نے بھی اے آئی کمپنیوں کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔
تاہم، اس معاملے پر تمام ماہرین ایک رائے نہیں رکھتے۔ دنیا بھر کے متعدد سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے خیالات مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں اور فی الحال اے آئی اس نہج پر نہیں پہنچی کہ وہ انسانیت کو نقصان پہنچا سکے۔ ان کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت صحت، تعلیم اور معیشت کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے اور اس کے مثبت فوائد خطرات سے کہیں زیادہ ہیں۔ ٹیک انڈسٹری کے ناقدین اور حامیوں کے درمیان اس نئی بحث نے ایک بار پھر اے آئی سیفٹی اور اس کے ضوابط کے حوالے سے سخت قوانین بنانے کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔