Technology
ایل جی سمارٹ ٹی وی ڈیٹا اکٹھا کرنے کے الزامات اور دفاع
الیکٹرانکس کمپنی ایل جی نے سمارٹ ٹی وی کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا غیر رضامندانہ طور پر اکھٹا کرنے کے الزامات پر اپنا دفاع کیا ہے۔ حالیہ الزامات نے صارف کی پرائیویسی اور ڈیٹا کے تحفظ پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ الیکٹرانکس کمپنی ایل جی نے اپنے سمارٹ ٹی وی کے مختلف فیچرز اور صوتی نگرانی کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے بعد باضابطہ طور پر اپنا دفاع پیش کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں کمپنی پر یہ شدید الزامات عائد کیے گئے تھے کہ وہ صارفین کی رضامندی کے بغیر ان کا ذاتی ڈیٹا اور وائس ریکارڈنگز جمع کر رہی ہے، جس نے صارفین کی پرائیویسی اور ڈیٹا سکیورٹی کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس صورتحال میں تکنیکی ماہرین اور صارفین دونوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کمپنی نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ان کے سمارٹ ٹی وی میں موجود صوتی فیچرز صرف اور صرف صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے اور وائس کمانڈز کو سمجھنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ایل جی کا کہنا ہے کہ صارفین کا ڈیٹا انتہائی سختی کے ساتھ ہینڈل کیا جاتا ہے اور کمپنی عالمی ڈیٹا پرائیویسی کے قوانین کی مکمل پاسداری کرتی ہے۔ ترجمان کے مطابق، صارفین کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق سمارٹ ٹی وی کے ان فیچرز کو فعال یا غیر فعال کر سکیں تاکہ ان کی ذاتی زندگی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اس تنازع کے بعد ٹیکنالوجی انڈسٹری میں ایک بار پھر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جدید سمارٹ آلات کس حد تک صارفین کی نجی زندگی میں مداخلت کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ مینوفیکچررز کو ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل میں مزید شفافیت لانی چاہیے تاکہ صارفین کو معلوم ہو سکے کہ ان کی کون سی معلومات سرورز تک جا رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس معاملے کے بعد ریگولیٹری ادارے بھی سمارٹ ہوم ڈیوائسز کے حوالے سے مزید سخت ضوابط متعارف کروا سکتے ہیں۔