World
ہسپانیہ اور سیউতা تارکینِ وطن کا معاملہ، یورپی یونین پر تنقید
ہسپانیہ نے سیউতা میں تارکینِ وطن کے داخلے کے تناظر میں بعض یورپی یونین کے رکن ممالک کے سرد مہراور خود غرضانہ رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثنا، اٹلی نے اس صورتحال کے پیش نظر ہسپانیہ کے ساتھ شینگن معاہدہ عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
مڈرڈ: ہسپانیہ نے سیউতা کے سرحدی علاقے میں تارکینِ وطن کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد یورپی یونین کے بعض رکن ممالک کے رویے کو انتہائی 'خود غرضانہ' قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تنقید کی ہے۔ ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں اتحادی ممالک کا تعاون نہ کرنا یورپی یکجہتی کے اصولوں کے منافی ہے، اور اس طرح کے بحران سے اکیلے نمٹنا ہسپانیہ کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے سیউতা سے آنے والی مناظر کو 'شاکنگ' یا انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ اس بیان کے فوری بعد اٹلی نے ہسپانیہ کے ساتھ شینگن کے سرحدی انتظامات کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے یورپی یونین کے اندر آزادانہ نقل و حرکت کے معاہدے پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ سیউতা جو کہ افریقہ کے شمالی ساحل پر واقع ہسپانیہ کا ایک خود مختار شہر ہے، طویل عرصے سے یورپی یونین میں داخل ہونے کے خواہشمند افریقی تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم گزرگاہ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں یہاں تارکینِ وطن کے سمندر پار کر کے پہنچنے کے واقعات میں ڈرامائی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ہسپانوی حکومت نے بارہا یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سرحدی بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائے اور مالی و انتظامی مدد فراہم کرے۔ تاہم، بعض اہم یورپی ممالک کی طرف سے سرد مہری اور اب اٹلی کی جانب سے شینگن معاہدے کی عارضی معطلی نے یورپی یونین کے اتحاد میں موجود دراڑوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس مسئلے کا بروقت اور منصفانہ حل نہ نکالا گیا تو یہ بحران نہ صرف ہسپانیہ بلکہ پورے یورپ کے سیاسی منظر نامے کو متاثر کر سکتا ہے، بالخصوص تارکینِ وطن کی پالیسیوں کے حوالے سے سخت گیر موقف رکھنے والی جماعتوں کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔