World
غزہ کے اسپتالوں میں ایندھن اور بجلی کا شدید بحران
غزہ میں ایندھن اور انجن آئل کی شدید قلت کے باعث اسپتالوں کو بجلی کی فراہمی محدود کرنا پڑ گئی ہے۔ اس بحران کی وجہ سے طبی امداد کے منتظر ہزاروں مریضوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں ایندھن اور انجن آئل کی انتہائی قلت کے باعث طبی و انسانی بحران سنگین ترین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، غزہ کے اہم اسپتالوں میں بجلی کی فراہمی کو شدید خطرات لاحق ہیں، جس کی وجہ سے انتظامیہ کو بجلی کی رسد کو محدود کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر انتہائی نگہداشت کے وارڈز، آپریشن تھیٹرز اور نوزائیدہ بچوں کے یونٹس پر پڑ رہا ہے جہاں بجلی کا تسلسل زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔
بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر ایندھن کی فراہمی بحال نہ کی گئی تو غزہ کے اسپتال مکمل طور پر بند ہو سکتے ہیں۔ پہلے ہی طویل محاصرے اور تنازعات کی وجہ سے صحت کا بنیادی ڈھانچہ مفلوج ہو چکا ہے، اور اب ایندھن کی کمی نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔ ایمرجنسی جنریٹرز کے لیے درکار ایندھن ختم ہونے کے قریب ہے، اور اسپتالوں کے ڈائریکٹرز نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
اسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی مجبوری کے عالم میں بجلی کی کھپت کو کم کر رہے ہیں اور صرف انتہائی ضروری شعبوں کو ہی محدود پیمانے پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے عام مریضوں کا علاج معالجہ شدید متاثر ہو رہا ہے اور ادویات کی فراہمی میں بھی رکاوٹیں آ رہی ہیں۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو شدید ترین حالات میں اپنے فرائض سر انجام دینا پڑ رہے ہیں جہاں وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔
عالمی اداروں نے اس انسانی المیے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کے لیے امدادی سامان اور بالخصوص ایندھن کی ترسیل کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ اگر اس بحران پر قابو نہ پایا گیا تو غزہ کے اسپتالوں میں طبی سہولیات کا فقدان ایک بہت بڑے انسانی جانی نقصان کا باعث بن سکتا ہے، جس کی ذمہ داری عالمی برادری اور با اثر طاقتوں پر عائد ہوگی۔