LIVE
Loading Breaking News...

سعود شکیل کا بیان: انگلینڈ کی مشکل پچز پاکستان کی بیٹنگ مشکلات کا سبب

News Image
قومی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز سعود شکیل کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں پچز پر گیند کی غیر معمولی حرکت کی وجہ سے بیٹنگ کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے ایجبسٹن ٹیسٹ میں ناقص کارکردگی پر ذمہ داری قبول کی لیکن حالات کو بھی اس زوال کا ذمہ دار قرار دیا۔
قومی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز سعود شکیل نے انگلینڈ کے دورے کے دوران پاکستانی ٹیم کو پیش آنے والی بیٹنگ مشکلات کے حوالے سے کھل کر بات کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انگلینڈ میں پچز کے مشکل حالات اور گیند کی غیر معمولی اور اضافی حرکت نے پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سعود شکیل کے مطابق، باہر سے جتنا آسان دکھائی دیتا ہے، میدان میں آ کر ان حالات کا سامنا کرنا اتنا ہی زیادہ چیلنجنگ ثابت ہو رہا ہے، بالخصوص جب وکٹ پر نمی موجود ہو۔ ایجبسٹن میں کھیلے جا رہے تیسرے ٹیسٹ کے پہلے روز پاکستان کی پوری ٹیم محض 133 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جو کہ اس سیریز میں مسلسل پانچواں موقع تھا جب پاکستانی اننگز 200 رنز تک بھی نہ پہنچ سکی۔ پاکستانی اننگز کے دوران شروع ہی سے مشکلات کا سلسلہ جاری رہا اور ٹیم کے ابتدائی چار کھلاڑی محض 26 رنز کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئے۔ انگلینڈ کی جانب سے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے میزبان بولرز نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سعود شکیل، جنہوں نے مشکل وقت میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 43 رنز کی نمایاں اننگز کھیلی، نے اعتراف کیا کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، بطور بلے باز انہیں اپنی غلطیوں کی ذمہ داری خود لینا ہوگی۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ابتدائی اوورز میں پچ پر نمی اور آسمان پر بادلوں کی موجودگی کی وجہ سے انگلش بولرز کو کھیلنا انتہائی دشوار تھا، لیکن اس کے باوجود پاکستانی بیٹرز کو پارٹنرشپس قائم کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی سعود شکیل نے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا کہ پاکستانی ٹیم کی حالیہ کارکردگی میں زوال کی بنیادی وجہ فرنچائز لیگز میں زیادہ وقت گزارنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کی خراب فارم کی اصل وجہ لیگز نہیں بلکہ تکنیکی خامیاں اور انگلینڈ کے مخصوص حالات ہیں جن سے کھلاڑی پوری طرح مانوس نہیں ہیں۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کے حالیہ دورہ انگلینڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران کی پچز اور موجودہ ٹیسٹ میچز کی پچز میں واضح فرق دیکھا گیا ہے، اور موجودہ سیریز میں بولرز کو بہت زیادہ لیٹرل موومنٹ مل رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف حالات کا رونا رونے کے بجائے ٹیم کو اپنی تکنیک بہتر بنانے اور اس مشکل دور سے نکلنے کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب انہوں نے نوجوان فاسٹ بولر اللہ داد کی تعریف کی جنہوں نے اپنے ٹیسٹ ڈیبیو پر بہترین رفتار اور جارحانہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو روٹ جیسے مایہ ناز بلے باز سمیت دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ سعود شکیل کا خیال ہے کہ اگرچہ ٹیم کو بیٹنگ میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، لیکن ایسے نڈھال اور تیز رفتار باؤلرز کی موجودگی پاکستان کے لیے مستقبل میں مثبت پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سینئر کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو مل کر ان نوجوان ٹیلنٹ کو نکھارنا ہوگا تاکہ ٹیم آنے والے میچوں میں بہتر نتائج دے سکے۔