LIVE
Loading Breaking News...

سر جان کارٹس: برنہم باؤنس کی حقیقت اور سیاسی صورتحال

News Image
برطانیہ کے معروف پولنگ ماہر سر جان کارٹس نے کہا ہے کہ حکمران جماعت کی مقبولیت میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔ تاہم، یہ اضافہ اتنا بڑا نہیں ہے کہ اسے کوئی بہت بڑی سیاسی تبدیلی قرار دیا جا سکے۔
برطانیہ کے مشہور اور مستند پولنگ ماہر سر جان کارٹس نے حالیہ سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران جماعت کی عوامی مقبولیت میں جو بہتری دیکھی جا رہی ہے، اسے 'برنہم باؤنس' کہا جا سکتا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی گلیوں میں اس اصطلاح پر کافی بحث ہو رہی ہے اور ووٹرز کے رجحانات میں ہلکی سی تبدیلی نے حکمران جماعت کو کچھ ریلیف ضرور فراہم کیا ہے۔ سر جان کارٹس کے مطابق اس رجحان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ زمینی حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، اس تمام تر بہتری کے باوجود انہوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اضافہ اس پیمانے پر نہیں ہے کہ اسے کوئی بہت بڑا سیاسی انقلاب یا شاندار کامیابی قرار دیا جا سکے۔ ان کے تجزیے کے مطابق، حکمران جماعت کی ریٹنگز میں یہ بہتری انتہائی محدود دائرے میں ہے اور زمینی سطح پر اس کے اثرات توقع سے کم ہیں۔ موجودہ سیاسی و انتخابی اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہوئے سر جان کارٹس نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حکمران جماعت اگرچہ اب بھی ووٹرز کے ایک بڑے حلقے کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے، لیکن ان کی برتری مخالفین کے مقابلے میں بہت زیادہ نمایاں نہیں ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حکمران جماعت ریفارم پارٹی سے صرف معمولی سے فرق کے ساتھ آگے چل رہی ہے۔ سیاسی میدان میں یہ صورتحال انتہائی دلچسپ اور کشمکش سے بھرپور ہے کیونکہ معمولی سا ردوبدل بھی پوری سیاسی صف بندی کو متاثر کر سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں ووٹرز کا رویہ اور حکمران جماعت کی حکمت عملی ہی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ یہ ہلکی سی برتری کسی مستحکم کامیابی میں بدلتی ہے یا نہیں۔