Politics
پیٹرولیم لیوی کا معاملہ: حکومت کی جماعت اسلامی سے تین دن کی مہلت
جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی سے متعلق حتمی فیصلہ کرنے کے لیے تین مزید دن کی مہلت مانگی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جماعت اسلامی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینئر رہنما لیاقت بلوچ نے بتایا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے کے لیے مزید تین دن کی مہلت طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی عوام کو براہ راست ریلیف دلانے کے لیے پُرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ آئینی و سیاسی آپشنز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام مہنگائی کے اس دور میں مزید بوجھ اٹھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لیے حکومت کو فوری اور عوام دوست اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ انتظامی اور بیوروکریٹک رکاوٹیں چھ مطالبات پر پیش رفت کو پیچیدہ بنا رہی ہیں، تاہم جماعت اسلامی اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل باہمی بات چیت اور سنجیدہ مکالمے میں ہی پنہاں ہے، مگر عوام کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر دیگر سیاسی رہنماؤں کی کاوشوں کا بھی ذکر کیا گیا جن میں فضل الرحمان اور سہیل آفریدی کے نام بھی شامل ہیں، جو موجودہ سیاسی منظرنامے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔جماعت اسلامی کے رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں عوامی مطالبات کو سرفہرست رکھا گیا ہے جن میں یوٹیلیٹی بلز میں کمی، بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں استحصال کا خاتمہ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مہلت کے اندر حکومت نے کوئی مثبت اور خاطر خواہ جواب نہ دیا تو جماعت اسلامی آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے میں بالکل تاخیر نہیں کرے گی اور ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز کیا جائے گا۔