Politics
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے متعلقہ ایس ایچ او کو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور دیگر پاکستان تحریک انصاف کے قانون سازوں کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کارروائی کے بعد صوبائی سیاسی صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پشاور سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دیگر اہم قانون سازوں کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت کی جانب سے متعلقہ ایس ایچ او کو سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ نامزد ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے عدالت میں پیش کریں۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس قانونی کارروائی میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے علاوہ صوبائی کابینہ کے بعض وزراء اور پارٹی کے دیگر سرکردہ رہنما بھی شامل ہیں جن میں مینا خان آفریدی اور صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کے نام بھی لیے جا رہے ہیں۔ ان رہنماؤں پر مختلف مقدمات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں جن کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جاری تھی۔ عدالت کی بارہا طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر جج نے یہ سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم صادر کیا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان اور قانونی ٹیم نے اس فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ان کی پارٹی اور قیادت کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت کے حلقوں میں بھی اس صورتحال پر گہری تشویش پائی جاتی ہے اور قانونی ماہرین آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں تاکہ عدالت کے سامنے موثر انداز میں اپنا مقدمہ لڑا جا سکے۔
موجودہ سیاسی منظر نامے میں اس عدالتی پیش رفت کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی کے کارکنان بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس کیس کی سماعت کے دوران مزید اہم قانونی اور سیاسی موڑ آنے کی توقع ہے۔