Pakistan
پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس: اٹارنی جنرل اعوان کا عدالت میں اہم بیان
اٹارنی جنرل نے تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست کی حمایت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس کی نفری احتجاجی مظاہرین کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ عدالت نے خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل کی دو روزہ التوا کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
اسلام آباد میں سیاسی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں وفاقی دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممکنہ احتجاجی لانگ مارچ کے معاملے پر عدالت میں اہم سماعت ہوئی۔ اس دوران اٹارنی جنرل اعوان نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے خلاف دائر کی گئی ایک درخواست کی بھرپور حمایت کی اور عدالت کو صورتحال کی حساسیت سے آگاہ کیا۔
عدالت کے روبرو سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ دارالحکومت کی پولیس کی نفری مظاہرین کے مقابلے میں کافی کم ہے، جس سے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اس بار اپنے گزشتہ تمام احتجاجی مارچوں کے مقابلے میں زیادہ تیاری کے ساتھ آ رہی ہے اور انتظامیہ کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی اقدامات درکار ہیں۔
دوسری جانب، سماعت کے دوران خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے عدالت سے دو دن کے التوا کی استدعا کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد کیس کی سماعت اور قانونی کارروائی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں اس پیشرفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی ملک میں قبل از وقت انتخابات کے انعقاد اور اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے مسلسل وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ماضی میں بھی کئی احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں جن میں کارکردگی اور حکمت عملی کو لے کر حکومتی اور اپوزیشن حلقوں میں شدید لفظی جنگ دیکھنے میں آئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اس سنگین معاملے پر کیا حتمی فیصلہ صادر کرتی ہے۔