LIVE
Loading Breaking News...

پی ایم اینڈ ڈی سی کا افغان طلباء کی وریفیکیشن اور طبی تعلیم پر اہم بیان

News Image
پی ایم اینڈ ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ طبی تعلیم کے حصول کے لیے قومیت کی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ غیر رجسٹرڈ طلباء کو قانونی طور پر داخلہ یافتہ نہیں مانا جا سکتا تاہم افغان طلباء کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ ملک میں طبی تعلیم کے دروازے کسی بھی قسم کی قومیت کی بنیاد پر بند نہیں کیے گئے ہیں۔ کونسل نے افغان طلباء کی اسناد کی جانچ پڑتال اور تصدیق کے عمل کا پرزور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اقدامات قانون کے مطابق اور شفاف طریقے سے اٹھائے جا رہے ہیں۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے طلباء کو کسی بھی صورت میں قانونی طور پر داخلہ یافتہ تسلیم نہیں کیا جا सकता کیونکہ یہ اقدامات طبی شعبے کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ کونسل نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اس پورے عمل کے دوران متاثرہ طلباء کے ساتھ انسانی ہمدردی کا رویہ اپنایا جا رہا ہے اور انہیں ضابطے کے تحت تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ان کا تعلیمی مستقبل تاریک نہ ہو۔ واضح رہے کہ پاکستان میں مقیم افغان شہریوں اور طلباء کے حوالے سے وقتاً فوقتاً انتظامی اور تعلیمی فیصلے کیے جاتے ہیں جن کا مقصد ملک کے تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کا کہنا ہے کہ وہ طبی تعلیم کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا تاہم تمام جائز اور قانونی تقاضے پورے کرنے والے طلباء کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔