Pakistan
کراچی یونیورسٹی پروفیسر تشدد کیس: مرکزی ملزم کی عبوری ضمانت منظور
جامعة کراچی کے شعبہ علومِ اسلامیہ کے چیئرمین پر تشدد کے واقعے میں نامزد مرکزی ملزم کونین شاہ کو عدالت سے بیس ہزار روپے کے مچلکے کے عوض عبوری ضمانت مل گئی۔ پولیس نے اس واقعے کے تناظر میں ملزمان کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
جامعة کراچی کے شعبہ علومِ اسلامیہ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عارف ساقی پر مبینہ تشدد کے واقعے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں عدالت نے اس گھناؤنے جرم کے مرکزی ملزم کو عبوری ضمانت فراہم کر دی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، پروفیسر عارف ساقی کو آٹھ ستمبر دو ہزار چھبیس کو ایک ہوٹل کے مالک کے بیٹے اور اس کے محافظوں کی جانب سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد علمی اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو اور تصاویر بھی سامنے آئی تھیں جن میں پروفیسر کو تشدد کا سامنا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ واقعے کے بعد فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حرکت میں آتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا اور متعلقہ تھانے میں نامزد ملزمان کے خلاف اقدامِ قتل سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے تفتیش کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔ تازہ ترین پیشرفت کے مطابق، عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران مرکزی ملزم کونین شاہ کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کی گئی جس پر غور کرتے ہوئے عدالت نے اسے بیس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی شرط پر عبوری ضمانت جاری کر دی ہے۔ دوسری جانب، جامعہ کراچی کے اساتذہ اور طلبا تنظیموں کی طرف سے اس واقعے پر شدید احتجاج کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ پروفیسر کو انصاف فراہم کیا جائے اور اس حملے میں ملوث کسی بھی ملزم کو رعایت نہ دی جائے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ کی تنظیمیں اس پورے معاملے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ قانون کے مطابق مزید قانونی کارروائی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔