LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران جنگ اور مڈٹرم انتخابات پر اہم بیان

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ انہیں مڈٹرم انتخابات پر ممکنہ منفی اثرات کے باوجود ایران کے ساتھ جاری تنازعہ پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ مشاورتی رپورٹس کے مطابق یہ کشیدگی اور توانائی کی بلند قیمتیں صدارتی مدت کے اختتام تک برقرار رہ سکتی ہیں۔
واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ انہیں ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازعہ اور اس کے ملک کی سیاست پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے ذرا برابر بھی پشیمانی نہیں ہے۔ اگرچہ سیاسی حلقوں اور ان کے اپنے مشیروں کی جانب سے یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اس طویل تنازعہ کا اثر آئندہ ہونے والے مڈٹرم انتخابات پر پڑ سکتا ہے، تاہم صدر ٹرمپ اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ملکی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے قریبی اعلیٰ مشیران اس امر پر گہرے غور و فکر میں مصروف ہیں کہ آیا یہ ایران جنگ صدارتی مدت کے اختتام تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھی اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ یہ تنازعہ مڈٹرم انتخابات کے انعقاد کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے یا خاتمے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اس طویل المدتی محاذ آرائی نے واشنگٹن کے سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچا رکھی ہے اور سیاسی مخالفین اس معاملے پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اس جنگ کے معاشی اثرات بھی عام امریکی شہریوں کے لیے دردِ سر بنتے جا رہے ہیں۔ سی این بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ملک میں تیل اور گیس کی بلند قیمتیں آسانی سے نیچے نہیں آئیں گی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی مڈٹرم انتخابات کے فوری بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔ مہنگائی کے اس طوفان اور جنگی صورتحال کے امتزاج نے حکمران جماعت کے لیے انتخابی میدان کو مزید کٹھن بنا دیا ہے، لیکن وائٹ ہاؤس کی موجودہ قیادت اپنی پالیسیوں پر غیر متزلزل دکھائی دیتی ہے۔