LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی وزیر اعظم کا مقبوضہ شام کا دورہ، شام اور کویت کی شدید مذمت

News Image
شام اور کویت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے مقبوضہ شامی علاقے جبل الشیخ کے دورے کو ملکی سالمیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس موقع پر عرب ممالک نے اسرائیل کے اس اقدام کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کی سازش قرار دیا ہے۔
شام اور کویت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے مقبوضہ شامی علاقے جبل الشیخ (ماؤنٹ ہرمین) کے دورے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کی خودمختاری کی سنگین اور کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اسرائیلی رہنما کا یہ متنازع دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے پہلے ہی شدید کشیدگی اور جنگی صورتحال سے دوچار ہیں۔ شامی حکام نے اس غیر قانونی اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل کی جانے والی سرحدی جارحیت کا فوری نوٹس لے۔ دوسری جانب کویت کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بھی اس اسرائیلی کارروائی کو مسترد کیا گیا اور شامی ریاست کی حاکمیت کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔ خلیجی اور عرب ممالک کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اشتعال انگیز دورے خطے میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اسرائیلی قیادت کی طرف سے مقبوضہ شامی علاقوں میں فوجیوں کے درمیان موجودگی کا مقصد خطے میں فوجی دباؤ کو مزید بڑھانا اور کسی بھی قسم کے زمینی انخلا سے گریز کا عندیہ دینا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے اس دورے کے بعد خطے میں سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف عالمی اور علاقائی پلیٹ فارمز پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کی جائے اور مقبوضہ علاقوں میں یکطرفہ کارروائیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ شام نے واضح کیا ہے کہ اس کی ارضی سالمیت اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کا پورا حق محفوظ رکھتے ہیں۔