AI
اینتھروپک کے محققین کی مصنوعی ذہانت کے خطرات پر وارننگ
مصنوعی ذہانت کے ادارے اینتھروپک کے مزید محققین نے اے آئی کے ممکنہ انسانی خطرات سے خبردار کیا ہے جبکہ ارب پتی شخصیت ایلون مسک نے ان خدشات کو محض ایک نفسیاتی آپریشن قرار دیا ہے۔ محققین کی جانب سے دی جانے والی انتباہی آراء کے بعد عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے مستقبل اور ضابطہ بندی کے حوالے سے بحث میں تیزی آگئی ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معروف کمپنی اینتھروپک کے مزید محققین نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات اور انسانیت کے لیے ممکنہ تباہ کن اثرات کے خلاف شدید وارننگ جاری کی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، کچھ محققین کا ماننا ہے کہ غیر قابو شدہ اے آئی کی وجہ سے انسانی بقا کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، یہاں تک کہ ایک محقق نے استعفیٰ دیتے ہوئے اپنے حصص بھی چھوڑ دیئے تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ طور پر بے لگام ہونے کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔
دوسری جانب، دنیا کی معروف ٹیک شخصیات میں شامل ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت کے ان دباؤ اور خوف کو ایک 'نئے نفسیاتی آپریشن' (psyop) سے تعبیر کیا ہے۔ مسک کا موقف ہے کہ اے آئی کے حوالے سے پائے جانے والے انتہائی خوف اور سائنسی خدشات کو بعض عناصر بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں تاکہ اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو روکا جا سکے یا اس پر بلاوجہ قدغنیں لگائی جا سکیں۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کے قانون ساز اور سیاست دان بھی ٹیک کمپنیوں پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں چیٹ جی پی ٹی، کللاؤڈ اور دیگر جেনریٹو اے آئی سسٹمز کی تیزی سے ترقی نے ماہرین اور عام لوگوں دونوں کو حیرت میں ڈالا ہے۔ ایک طرف جہاں اس ٹیکنالوجی سے طب، تعلیم اور معیشت میں انقلابی تبدیلیاں آنے کی امید کی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف اس کے اخلاقی، سماجی اور سلامتی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ قانون سازوں کا مطالبہ ہے کہ اے آئی کمپنیوں کو زیادہ شفاف ہونا چاہیے اور ان پر سخت ترین ضابطے لاگو کیے جانے چاہئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل، اس کی حفاظتی تدابیر اور بین الاقوامی سطح پر اس کے کنٹرول کے حوالے سے مباحثہ مزید شدت اختیار کر جائے گا۔ جہاں ایک طبقہ اس ٹیکنالوجی کو انسانیت کا سب سے بڑا مددگار سمجھتا ہے، وہیں دوسرا طبقہ اسے ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطرناک قرار دے رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر اتفاقِ رائے کی اشد ضرورت ہے۔