World
یوکرین کے شہروں پر روسی حملے، کراماتورسک اور سلوویانس میں انخلا کا حکم
یوکرین کے اہم شہروں کراماتورسک اور سلوویانس سے شہریوں کو فوری انخلا کا حکم دے دیا گیا ہے۔ روسی افواج کی جانب سے ڈانباس کے باقی حصوں پر قبضہ کرنے کے لیے زمینی حملوں میں شدید تیزی آ گئی ہے۔
یوکرین کے مشرقی علاقے میں واقع قلعہ نما اور اہم شہر کراماتورسک اور سلوویانس اس وقت شدید روسی گولہ باری اور زمینی حملوں کی زد میں ہیں۔ ماسکو کی افواج نے ڈانباس کے خطے کے باقی ماندہ حصوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنی فوجی کارروائیوں میں ڈرامائی تیزی کر دی ہے، جس کے بعد ان خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان اس محاذ پر فیصلہ کن معرکہ آرائی کی تیاریاں جاری ہیں۔ مقامی حکام اور یوکرینی انتظامیہ نے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ان شہروں کے مکینوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور علاقہ چھوڑنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی زندگیاں بچانا اولین ترجیح ہے کیونکہ روسی افواج کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ان علاقوں میں شدید ترین لڑائی متوقع ہے۔ فوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ کراماتورسک اور سلوویانس یوکرین کی دفاعی لائن کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر روسی فوج ان قلعہ نما شہروں کا دفاع توڑنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ پورے ڈانباس ریجن پر روس کے مکمل قبضے کی جانب ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں اس وقت حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور یوکرینی فورسز بھی روسی حملوں کا بھرپور جواب دینے کے لیے مورچہ بند ہیں۔ دریں اثنا، انخلا کی احکامات ملنے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں اور شاہراہوں پر شدید رش دیکھا جا رہا ہے جبکہ امدادی تنظیمیں بھی متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر گولہ باری کا یہ سلسلہ اسی شدت کے ساتھ جاری رہا تو انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔