World
بھارت کی ککروس تحریک اور ابھیجیت دیپکے کا بی بی سی انٹرویو
بھارت میں 'ککروس' تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے راتوں رات شہرت حاصل کرنے کے بعد اپنے مستقبل کے سیاسی عزائم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ تحریک صرف انتخابات تک محدود نہیں رہے گی۔
بھارت میں سیاسی افق پر اچانک ابھرنے والی 'ککروس' یا لال بیگ پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کے لیے گزشتہ چند دن کسی رولر کوسٹر کی طرح رہے ہیں، جنہوں نے راتوں رات غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ابھیجیت دیپکے نے اپنے سیاسی سفر، تحریک کے پس منظر اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ روایتی سیاست اور محض انتخابات میں حصہ لینے کے دائرہ کار سے نکل کر کچھ نیا اور پائیدار کرنا چاہتے ہیں۔
ابھیجیت دیپکے نے وضاحت کی کہ ان کی تحریک کا بنیادی مقصد روایتی سیاسی جماعتوں کے طریقوں کو چیلنج کرنا اور عام عوام کے حقیقی مسائل کو سامنے لانا ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقات کی طرف سے ملنے والے زبردست ردعمل کے بعد، وہ اس تحریک کو ملک کے طول و عرض تک پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اتنی جلدی ملنے والی شہرت اور توجہ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے، تاہم اب ان کی پوری توجہ اس لہر کو ایک منظم اور معنی خیز تحریک میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نوعیت کی انوکھی سیاسی تحریکیں اکثر نوجوان طبقے کی توجہ کھینچتی ہیں جو موجودہ سیاسی نظام سے بیزار ہو چکے ہیں۔ ابھیجیت دیپکے کا یہ بیان کہ وہ انتخابات سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں، اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ محض نشستیں جیتنے کے بجائے سماجی سطح پر گہرے اثرات چھوڑنے کے خواہشمند ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ غیر روایتی تحریک بھارتی سیاسی میدان میں کیا نیا موڑ لاتی ہے اور عوام کی توقعات پر کتنا پورا اترتی ہے۔