Health
خراٹے لینے والے ساتھی کے ساتھ سونا صحت کے لیے نقصان دہ
ماہرین صحت کے مطابق کسی ایسے شخص کے ساتھ سونا جو خراٹے لیتا ہے آپ کی اپنی صحت اور نیند کے معیار پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس مسئلے سے بچنے کے لیے بروقت طبی مشورہ اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہیں۔
کیا آپ کا شریک حیات یا ساتھی زور دار خراٹے لیتا ہے جس کی وجہ سے آپ کی رات کی نیند خراب ہوتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال آپ کی اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ایسے شخص کے قریب سونا جو مستقل طور پر خراٹے لیتا ہے، آپ کے سونے کے معمولات کو شدید متاثر کرتا ہے۔ رات کے وقت بار بار آنکھ کھلنے یا گہری نیند میں خلل پڑنے کی وجہ سے انسان کو کئی قسم کے صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ सकता ہے۔ نیند کی کمی کے باعث جہاں ایک طرف روزمرہ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، وہیں دوسری طرف مدافعتی نظام بھی کمزور ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک خراب نیند کا شکار رہنے والے افراد میں چڑچڑاپن، تھکن، تناؤ اور بلڈ پریشر جیسی بیماریاں پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو نظر انداز نہ کیا جائے اور اس کا مناسب حل تلاش کیا جائے۔ اگر آپ یا آپ کا ساتھی خراٹوں کے اس مسئلے سے دوچار ہیں تو کسی مستند ڈاکٹر یا ماہر امراضِ نیند سے رجوع کرنا چاہیے۔ اکثر خراٹے ایک عام سی عادت معلوم ہوتے ہیں لیکن یہ سلیپ اپنیا جیسی خطرناک طبی حالت کی علامت بھی ہو سکتے ہیں، جس میں سوتے وقت سانس کچھ دیر کے لیے رک جاتی ہے۔ اس لیے مناسب علاج اور طرز زندگی میں تبدیلی لا کر نہ صرف خراٹوں پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ دونوں افراد ایک صحت مند اور پُرسکون نیند سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔