LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی سیل ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ

News Image
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی بحری ڈرون کو قبضے میں لے لیا ہے۔ یہ واقعہ خطے میں دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اور اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔
تہران: ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر ایک امریکی بحری ڈرون (سیل ڈرون) کو کامیابی کے ساتھ قبضے میں لے لیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، یہ واقعہ بین الاقوامی اور علاقائی آبی حدود میں سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی حساس مقام پر پیش آیا جہاں سے دنیا کا بیشتر تیل کا ترسیلی بیڑا گزرتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ امریکی غیر manned (بغیر پائلٹ کے) بحری نظام سیکیورٹی خدات کے پیش نظر پکڑا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ بحری ڈرون امریکی بحریہ کے زیرِ استعمال تھا اور خطے میں عسکری نگرانی کے مقاصد کے لیے سرگرم عمل تھا۔ ایران کی جانب سے اس قسم کے آلات کو قبضے میں لینے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ ماضی میں بھی خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب اس طرح کے سمندری اور فضائی آلات کے حوالے سے فریقین میں تناؤ دیکھا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں ملکی سلامتی کے منافی ہیں اور خطے کے امن کو خراب کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ دوسری جانب، اس واقعے پر امریکی حکام کی طرف سے فوری طور پر کوئی تفصیلی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، تاہم واشنگٹن پہلے بھی اس طرح کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز جو کہ خلیج فارس اور خلیج عمان کو آپس میں ملاتی ہے، دنیا بھر کی توانائی کی تجارت کے لیے ایک کلیدی گزرگاہ ہے۔ یہاں امریکی بحریہ اور ایرانی افواج کی موجودگی کے باعث وقتاً فوقتاً اس طرح کے تصادم اور گرما گرمی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی دونوں ممالک کے درمیان جوہری معاہدے اور دیگر امور پر ڈیڈ لاک موجود ہے۔ اس قسم کی بحری کارروائیاں خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہیں، جس سے سمندری نقل و حمل اور تجارتی جہاز رانی کے لیے بھی خطرات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے فوجی تنازع سے بچا جا سکے۔