LIVE
Loading Breaking News...

وینس فلم فیسٹیول میں غزہ کے موضوع پر بنی اسرائیلی فلم کو زبردست پذیرائی

News Image
وینس فلم فیسٹیول میں غزہ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بنائی گئی اسرائیلی فلم 'نازا' کو شائقین کی جانب سے طویل ترین پذیرائی ملی۔ فلم کی نمائش کے بعد حاضرین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر پچیس منٹ تک تالیاں بجائیں۔
وینس فلم فیسٹیول کے دوران اس وقت ایک تاریخی لمحہ دیکھنے میں آیا جب غزہ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظام کے استعمال کو بے نقاب کرنے والی ایک اسرائیلی فلم کو نمائش کے بعد پچیس منٹ تک مسلسل کھڑے ہو کر داد دی گئی۔ اس دستاویزی اور گہرے موضوع پر مبنی فلم نے فیسٹیول کے ناقدین اور شائقین دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے، جو کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ فلمی حلقوں کے مطابق، وینس فلم فیسٹیول میں کسی بھی فلم کو اس قدر طویل اسٹینڈنگ اوویشن ملنا ایک نایاب اور تاریخی واقعہ ہے۔ فلم 'نازا' (NAZA) میں بنیادی طور پر اس بات کا احاطہ کیا گیا ہے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کو غزہ کے تنازع میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس تلخ حقیقت کو پردہ سکرین پر انتہائی جرأت مندانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس نے دیکھنے والوں کو گہرا سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ فلم کی نمائش کے اختتام پر جب ہال کی لائٹس آن ہوئیں تو حاضرین نے اپنی نشستوں سے اٹھ کر طویل وقت تک تالیاں بجائیں۔ اس خراج تحسین کا سلسلہ پچیس منٹ تک جاری رہا، جو خود اس فلم کی اثرانگیزی اور اس کے موضوع کی سنگین نوعیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فلم نہ صرف تکنیکی لحاظ سے شاندار ہے بلکہ اس کا سکرپٹ بھی موجودہ دور کے سب سے بڑے انسانی المیے پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس تقریب کے بعد بین الاقوامی میڈیا اور فلمی پنڈتوں میں اس موضوع پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ کس طرح سنیما کے ذریعے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ فلم دنیا بھر کے دیگر اہم فیسٹیولز میں بھی دکھائی جائے گی اور اس پر مزید مباحثے ہوں گے۔