LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، امریکی ڈرون اور دو جہاز نشانہ

News Image
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی بغیر پائلٹ کے بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے عمان کے قریب دو دیگر بحری جہازوں پر پروجیکٹائلز لگنے کی تصدیق کی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عسکری تناؤ میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) نے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک پانیوں میں ایک امریکی بغیر پائلٹ کے بحری جہاز پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اس خطے میں پہلے ہی سے بحری سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پائے جا رہے ہیں اور بین الاقوامی تجارت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق اس حملے کے بعد خطے میں موجود تمام بحری افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناگوار صورتحال سے بروقت نپٹا جا سکے اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے الگ سے یہ تصدیق کی ہے کہ سلطنت عمان کے ساحل کے قریب دو دیگر بحری جہازوں کو بھی نامعلوم پروجیکٹائلز نے نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں جہازوں کو پہنچنے والے نقصان اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں، تاہم متعلقہ حکام نے متاثرہ جہازوں سے ہنگامی رابطے شروع کر دیے ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ سمندری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں سے ایک ہے، اور اس قسم کے حملے عالمی توانائی کی سپلائی چین کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتے ہیں جن سے عالمی معیشت کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ بین الاقوامی برادری اور خطے کے ممالک نے اس تازہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس قسم کے بحری تصادمات کا سلسلہ نہ روکا گیا تو یہ تنازعہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے جس سے عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ اس صورتحال کے پیش نظر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بھی خطے میں اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی پانیوں میں بحری جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے اور مزید حملوں کو روکا جا سکے۔