World
اقوام متحدہ کی یمن میں جنگ کے خطرناک مرحلے پر تشویش
اقوام متحدہ کے ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حوثی گروپ کی کارروائیوں کے بعد ملک میں جنگ کا نیا اور خطرناک مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ شہریوں اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ نے سلامتی کونسل کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں جاری تنازع اب ایک انتہائی خطرناک اور تشویشناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کونسل کے ارکان کو خطے کی حالیہ صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اگر فوری سفارتی اور حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے خطے اور دنیا بھر پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
بریفنگ کے دوران ہانس گرنڈبرگ نے حوثی گروپ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور عسکری کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف یمنی شہریوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے بلکہ بحیرہ احمر اور گردونواح کے اہم بین الاقوامی تجارتی راستے بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے پرزور اپیل کی کہ وہ تجارتی بحری جہازوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے متحد ہو کر لائحہ عمل تیار کریں۔
اقوام متحدہ کے ایلچی کا مزید کہنا تھا کہ یمن میں پائیدار امن کے حصول کے لیے تمام فریقین کو فوری طور پر عسکری محاذ آرائی کو ختم کرنا ہوگا اور بامقصد مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فوجی طاقت کے ذریعے اس تنازع کا کوئی حل ممکن نہیں ہے اور مزید کشیدگی سے عام شہریوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔
اختتامی کلمات میں ہانس گرنڈبرگ نے عالمی طاقتوں اور علاقائی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ یمن کے بحران کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ یمن کے عوام کی فلاح و بہبود اور خطے میں استحکام کی بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے، مگر اس کے لیے تمام فریقین کی سنجیدہ تعاون کی ضرورت ہے۔