Politics
چارلی کرک کی برسی اور امریکی نوجوان ووٹرز کا سیاسی رویہ
چارلی کرک کی وفات کو ایک سال مکمل ہونے کے بعد امریکی سیاست میں نوجوان ووٹرز کے رجحانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے نے کیمپسز میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے لیکن بعض سروگز کے مطابق نوجوان مردوں میں ٹرمپ کی حمایت میں کمی آئی ہے۔
امریکہ میں قدامت پسند تحریک کے معروف رہنما چارلی کرک کے انتقال کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، اور اس ایک سال کے دوران سیاسی منظر نامے میں کئی اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ چارلی کرک کی تنظیم 'ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے' نے یونیورسٹی کیمپسز میں اپنی سرگرمیوں کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں اپنے نیٹ ورک کو مزید وسعت دی ہے۔ تنظیم کا مقصد نوجوان نسل میں قدامت پسند نظریات کو فروغ دینا اور سیاسی شعور بیدار کرنا ہے، جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔
تاہم، حالیہ سیاسی تجزیوں اور اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نوجوان ووٹرز بالخصوص نوجوان مردوں کی حمایت میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔ ماضی میں ٹرمپ کو نوجوان طبقے میں ایک مضبوط بیس حاصل رہی ہے، لیکن موجودہ سیاسی ماحول اور بدلتے ہوئے رجحانات نے مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا نوجوان ووٹرز اب آہستہ آہستہ ٹرمپ سے دور ہو رہے ہیں یا یہ محض ایک وقتی سیاسی تبدیلی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کی زمینی سطح پر موجودگی مضبوط ہوئی ہے، لیکن مجموعی طور پر قومی سطح پر نوجوانوں کے سیاسی ترجیحات میں تنوع دیکھا جا رہا ہے۔ معاشی خدشات، سماجی مسائل اور مستقبل کے حوالے سے نوجوانوں کے خدشات ان کی سیاسی وابستگی کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ آنے والے انتخابات میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ نوجوان ووٹرز کس امیدوار کا ساتھ دیتے ہیں اور کیا قدامت پسند رہنماؤں کی کوششیں اس رجحان کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔