LIVE
Loading Breaking News...

عارف ساقی تشدد کیس میں اہم پیشرفت، کونین شاہ گرفتار

News Image
جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامی لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر عارف ساقی پر تشدد کے واقعے میں پولیس نے بڑی پیشرفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم کونین شاہ کو حویل میں لے لیا ہے۔ متاثرہ استاد پر گزشتہ دنوں ایک ہوٹل کے مالک کے بیٹے اور اس کے محافظوں کی جانب سے تشدد کیا گیا تھا۔
کراچی: جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامی لرننگ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عارف ساقی پر تشدد کے چرچے پورے ملک میں پھیل جانے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس سنگین معاملے پر سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، اس ہولناک واقعے کے مرکزی ملزم کونین شاہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس پر اپنے مسلح محافظوں کے ہمراہ ایک ہوٹل میں یونیورسٹی کے استاد پر بہیمانہ تشدد کرنے کا الزام ہے۔ یہ واقعہ 8 ستمبر 2026 کو پیش آیا تھا جس کی ویڈیوز اور تصاویر نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس گھناؤنے جرم کے بعد مرکزی ملزم کونین شاہ نے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری بھی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ قانون کی گرفت سے بچ سکے۔ تاہم، تفتیشی حکام اور پولیس ٹیم نے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اور شواہد کی روشنی میں ملزم کی گرفتاری کو یقینی بنایا۔ اس واقعے کے خلاف سول سوسائٹی، اساتذہ تنظیموں اور طلباء کی جانب سے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا گیا تھا اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ با اثر ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ڈاکٹر عارف ساقی پر ہونے والے اس حملے نے تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جامعہ کراچی کے اساتذہ اور ملازمین نے واقعے کے فوری بعد تدریسی بائیکاٹ اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا، جس کے دباؤ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متحرک ہو کر کارروائی کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے دیگر پہلوؤں کی بھی باریک بینی سے تفتیش کی جا رہی ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کونین شاہ کے ساتھ اس واقعے میں کون کون اور شامل تھا۔ محکمہ پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی بھی با اثر شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ڈاکٹر عارف ساقی تشدد کیس کے اس اہم موڑ پر پہنچنے کے بعد عدالتی کارروائی میں بھی تیزی متوقع ہے تاکہ متاثرہ استاد کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور معاشرے میں اس طرح کے پر تشدد واقعات کی روک تھام کے لیے ایک سخت مثال قائم کی جا سکے۔