LIVE
Loading Breaking News...

ایف آئی اے کی کارروائی، 420 ملین روپے فراڈ پر بینک مینیجر گرفتار

News Image
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے چار سو بیس ملین روپے کی مشکوک اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ٹرانزیکشنز میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر ایک بینک مینیجر کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم سے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس گھنائونے جرم میں ملوث دیگر افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایک اہم کارروائی کے دوران چار سو بیس ملین روپے کی خطیر رقم کے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے لین دین اور مالیاتی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک نجی بینک کے مینیجر کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم کافی عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں میں تھا اور اس کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کیا گیا تھا۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس جعلی ٹرانزیکشن نیٹ ورک کے ذریعے بینک قواعد کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں اور اربوں روپے کے اثاثوں کو ہیر پھیر کا نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل نے مخصوص معلومات کی بنیاد پر اس چھاپے کو حتمی شکل دی، جس کے دوران ملزم کی تحویل سے اہم شواہد اور بینکنگ ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے فیک اکاؤنٹس بنائے اور ان کے ذریعے غیر قانونی رقوم کی منتقلی کو ممکن بنایا۔ اس نوعیت کے مالیاتی فراڈ نہ صرف ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سامنے بھی ملک کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس گھنائونے نیٹ ورک میں اکیلا بینک مینیجر ملوث نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑا گینگ یا منظم مافیا کارفرما ہو سکتا ہے جو طویل عرصے سے بینکنگ سسٹم کو چونہ لگا رہا تھا۔ گرفتار ملزم سے مزید سخت تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اس گینگ کے تمام کارندوں اور سہولت کاروں کو بے نقاب کیا جا سکے اور لوٹی گئی رقم کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ایف آئی اے نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مالیاتی جرائم میں ملوث کسی بھی شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔