World
کوویت کے اسکولوں میں عطیات اور سوشل میڈیا پر سخت قوانین نافذ
کوویت کی وزارتِ تعلیم نے تعلیمی اداروں کے لیے نئے اور سخت ضوابط جاری کیے ہیں جن کا مقصد طلبہ کی پرائیویسی کا تحفظ اور اسکولوں میں مالیاتی شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ ان قوانین کے تحت عطیات جمع کرنے اور سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
کوویت کی وزارتِ تعلیم نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے لیے ایک نئی اور سخت پالیسی کا باضابطہ نفاذ کر دیا ہے، جس کے تحت اسکولوں میں عطیات جمع کرنے، سوشل میڈیا کے استعمال اور طلبہ کی پرائیویسی کے حوالے سے جامع ضابطہ اخلاق جاری کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد تعلیمی ماحول کو مزید شفاف بنانا اور اسکول کے احاطے میں طلبہ کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنانا ہے۔
نئے قوانین کے تحت کوئی بھی تعلیمی ادارہ یا عملہ بغیر پیشگی سرکاری اجازت کے کسی قسم کے مالی عطیات یا فنڈز اکٹھے نہیں کر سکے گا۔ اس ضابطے کا مقصد مالیاتی بے ضابطگیوں کو روکنا اور اسکولوں کے اندر شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ، اسکول انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فنڈز جمع کرنے کے عمل کو مکمل طور پر قانونی اور مجاز اداروں کے دائرہ کار میں رکھیں۔
دوسری جانب، طلبہ کی ذاتی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اسکولوں کے اندر طلبہ کی تصاویر یا ویڈیوز بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے پر کڑی نظر رکھی جائے گی جب تک کہ والدین یا سرپرستوں کی طرف سے باضابطہ تحریری اجازت نامہ حاصل نہ کیا گیا ہو۔ اس پالیسی سے جہاں ایک طرف بچوں کی ڈیجیٹل پرائیویسی محفوظ ہوگی وہیں دوسری طرف غیر مجاز میڈیا کوریج پر بھی قدغن لگے گی۔
تعلیمی ماہرین نے کوویت حکومت کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اسکولوں کا انتظامی ڈھانچہ مزید بہتر ہوگا اور والدین کا تعلیمی نظام پر اعتماد بڑھے گا۔ وزارتِ تعلیم نے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کو تنبیہ کی ہے کہ ان قوانین پر من و عن عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔