LIVE
Loading Breaking News...

جماعت اسلامی کا چھ نکاتی معاشی پلان اور لیوی کے خاتمہ کی تجویز

News Image
جماعت اسلامی نے ملک میں مالیاتی بحران سے نمٹنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک جامع چھ نکاتی پلان پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد غیر ضروری لیویز کا خاتمہ کر کے چھ ٹریلین روپے سے زائد کی خطیر رقم کی بچت کرنا ہے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے ملک کے موجودہ معاشی حالات اور عوام پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم چھ نکاتی پلان کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس نئے پلان کا بنیادی مقصد ملک میں نافذ مختلف غیر ضروری لیویز کو ختم کرنا اور قومی خزانے کو اربوں کھربوں روپے کے نقصان سے بچاتے ہوئے چھ ٹریلین روپے سے زائد کی خطیر رقم کی بچت کرنا ہے۔ ماہرینِ معیشت اور سیاسی حلقوں میں اس تجویز کو کافی پذیرائی مل رہی ہے کیونکہ ملک اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ اس چھ نکاتی لائحہ عمل کے تحت حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی، اشیائے ضروریہ پر عائد ناجائز ٹیکسز اور لیویز کا خاتمہ، اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات شامل ہیں۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگر ملک میں حکومتی سطح پر کفایت شعاری کو اپنایا جائے اور کرپشن کا خاتمہ کیا جائے تو نہ صرف قومی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہے بلکہ عام آدمی کو بھی مہنگائی کے اس طوفان سے بڑی حد تک نجات مل سکتی ہے۔ پلان کے دیگر نکات میں برآمدات میں اضافہ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو خصوصی مراعات دینا اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا شامل ہے۔ جماعت اسلامی کے اس اقدام کا مقصد عام شہریوں کے لیے روزمرہ کی زندگی کو آسان بنانا اور ملک کو بیرونی قرضوں کے چنگل سے نکالنے کے لیے ایک مستحکم طویل مدتی معاشی روڈ میپ فراہم کرنا ہے۔ حکومت اور متعلقہ معاشی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس چھ نکاتی پلان کا سنجیدگی سے جائزہ لیں تاکہ ملکی معیشت کو درست سمت دی جا سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کو اس طرح کے ٹھوس اور عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور ملک کو دیوالیہ پن کے خطرات سے مستقل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔