Pakistan
پروفیسر عارف ساقی حملہ کیس کا مرکزی ملزم کونین شاہ گرفتار
پولیس نے پروفیسر عارف ساقی پر ہونے والے حملے کے کیس میں بڑی پیشرفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم کونین شاہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس کے دیگر ساتھیوں کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔
پروفیسر عارف ساقی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے معاملے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک اہم اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مقدمے کے مرکزی ملزم کونین شاہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس گرفتاری کو کیس کی تفتیش میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جس سے اس گھناؤنے واقعے کے پیچھے چھپے دیگر حقائق اور محرکات سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے کافی عرصے سے کوششیں جاری تھیں اور جدید ٹیکنالوجی سمیت انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس نے گرفتار ملزم کونین شاہ کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے جہاں اس سے اس واقعے کے حوالے سے سخت بازپرس اور تفتیش کی جا رہی ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اس حملے میں کونین شاہ کے علاوہ اور کون کون افراد شامل تھے اور اس سازش کے پس پشت اصل محرکات کیا تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شواہد کو اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ عدالت میں ایک مضبوط چالان پیش کیا جا سکے اور ملزم کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے پروفیسر عارف ساقی پر حملے کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ مرکزی ملزم کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد شہریوں اور علمی حلقوں نے پولیس کی اس کارروائی کو سراہا ہے تاہم ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
محکمہ پولیس کا عزم ہے کہ معاشرے میں قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے اگلے مراحل مکمل ہونے کے بعد میڈیا کو بھی اس حوالے سے مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا، جبکہ گرفتار ملزم کو جلد مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے اس کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا تاکہ مزید انکشافات سامنے آ سکیں۔