LIVE
Loading Breaking News...

حوثی پیش قدمی اور بحیرہ احمر میں سعودی تیل کی برآمدات کو خطرات

News Image
یمنی ساحل کے ساتھ ساتھ حوثی باغیوں کی حالیہ پیش قدمی نے بین الاقوامی سلامتی کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے بحیرہ احمر کے راستے ہونے والی سعودی تیل کی برآمدات پر شدید خطرات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
یمنی ساحل کے ساتھ ساتھ حوثی باغیوں کی عسکری پیش قدمی میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حوثی باغیوں کی اس بڑھتی ہوئی سرگرمی سے بحیرہ احمر کے اہم بحری راستوں کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے، جو عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس تازہ پیش قدمی نے نہ صرف یمن کے اندرونی حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ اس کے بین الاقوامی توانائی کی مارکیٹوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر بحیرہ احمر کے اس حساس خطے سے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کو براہ راست خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بحیرہ احمر دنیا کے مصروف ترین تجارتی اور توانائی کے راہداریوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں بیرل تیل دنیا بھر کےمختلف ممالک کو روانہ کیا جاتا ہے۔ اگر حوثی باغی اس ساحلی پٹی پر مزید کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو تیل کے ٹینکرز اور تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حمل شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں زبردست اچھال آنے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کی قیادت کو انتہائی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سعودی حکام خطے میں امن و امان کی بحالی اور اپنی تجارتی تنصیبات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر اتحادیوں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، خطے میں کشیدگی کے اس تسلسل نے دنیا بھر کے معاشی ماہرین کو بھی فکر مند کر دیا ہے کیونکہ توانائی کی رسد میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا سکتی ہے۔ بین الاقوامی برادری اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سمندری گزرگاہوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔