LIVE
Loading Breaking News...

پٹرول کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافہ اور اس کے اثرات

News Image
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے جس سے عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑ گیا ہے۔ مہنگائی کی اس نئی لہر سے عام شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ملک میں مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے جہاں پٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس تازہ اضافے کے بعد روزمرہ کی اشیاء اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے عام آدمی کا جینا مزید اجیرن ہو چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں کمی اس اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ صارفین اور مختلف تجارتی تنظیموں کی طرف سے پٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور ایسے میں ایندھن کی قیمتیں بڑھانا ان کے گھریلو بجٹ کو مکمل طور پر درہم برہم کر دے گا۔ موٹر سائیکل سوار اور کار مالک دونوں ہی اس صورتحال سے یکساں طور پر پریشان ہیں۔ پٹرول مہنگا ہونے کی وجہ سے نہ صرف ذاتی سواری کا استعمال مشکل ہو گیا ہے بلکہ اسکول جانے والے بچوں کی پک اینڈ ڈراپ سروسز اور دفتری ملازمین کے سفری اخراجات میں بھی ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے بڑھانے کے اشارے دیے ہیں جس کا براہ راست اثر سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑے گا۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ عوام کو بار بار کے ان جھٹکوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ دوسری جانب عوام حکومت سے پرزور مطالبہ کر رہے ہیں کہ پٹرولیم لیوی اور ٹیکسز میں کمی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ وہ موجودہ معاشی مشکلات کے گرداب سے نکل سکیں۔