LIVE
Loading Breaking News...

عراق میں ایرانی کرد جماعتیں اور خطے کی کشیدہ صورتحال

News Image
عراق میں مقیم ایرانی کرد گروہوں کو حالیہ جنگ کے دوران شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، تاہم ان میں سے بیشتر نے امریکی مدد حاصل کرنے کی تردید کی ہے۔ یہ جماعتیں اس وقت خطے میں ایک انتہائی نازک توازن پر عمل پیرا ہیں۔
عراق کے نیم خودمختار علاقے میں مقیم ایرانی کرد سیاسی اور عسکری جماعتیں اس وقت خطے میں جاری کشیدگی اور حملوں کی وجہ سے ایک انتہائی نازک اور پیچیدہ صورتحال سے گزر رہی ہیں۔ حالیہ جنگ اور عسکری کارروائیوں کے دوران ان ایرانی کرد گروہوں کے مراکز کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے ان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ گروہ طویل عرصے سے ایران کے سرحدی علاقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں لیکن اب عراقی سرزمین پر انہیں دوطرفہ دباؤ کا سامنا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ان کرد تنظیموں پر مختلف قسم کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ مبینہ طور پر بیرونی طاقتوں بالخصوص امریکہ سے معاونت حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم، ان الزامات کے برعکس زیادہ تر ایرانی کرد جماعتوں کے رہنماؤں نے سختی سے تردید کی ہے کہ انہیں امریکہ یا کسی اور بیرونی ملک سے کسی بھی قسم کی عسکری یا مالی مدد مل رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی سیاسی اور نظریاتی جدوجہد کے لیے خود انحصار ہیں اور کسی غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ اس صورتحال نے عراق کی مرکزی حکومت اور علاقائی حکومت دونوں کے لیے بھی سفارتی اور سکیورٹی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ ایک طرف تہران کی طرف سے ان کرد جماعتوں کے خاتمے یا تخفیفِ اسلحہ کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے، تو دوسری طرف عراقی سرزمین پر ان کی موجودگی سے علاقائی خودمختاری اور استحکام کے مسائل بھی ابھر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو ان ایرانی کرد جماعتوں کے لیے اس خطے میں توازن برقرار رکھنا اور بھی زیادہ مشکل ہو جائے گا، کیونکہ وہ خطے کی بڑی طاقتوں کے درمیان جاری رسہ کشی کی لپیٹ میں آ چکی ہیں۔