LIVE
Loading Breaking News...

تیونس کا معاشی بحران اور عوامی غصہ: ایک جائزہ

News Image
تیونس میں ظاہری خاموشی کے باوجود سرکاری جبر، معاشی زوال اور پبلک سروسز کی تباہی پر عوام کا غصہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ شہریوں کو روزمرہ کی زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جس سے ملک میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
شمالی افریقی ملک تیونس میں اگرچہ بظاہر ایک زبردستی مسلط کی گئی خاموشی نظر آتی ہے، لیکن اس کے پس منظر میں عوام کا شدید غصہ تیزی سے سلگ رہا ہے۔ ملک میں بڑھتا ہوا سیاسی جبر، معاشی زوال اور بنیادی عوامی خدمات کا انہدام وہ اہم عوامل ہیں جنہوں نے عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ظاہری پرسکون فضا کسی بھی وقت بڑے عوامی احتجاج کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران تیونس کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں مہنگائی آسمان چھو رہی ہے اور بے روزگاری کی شرح میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف، سرکاری سطح پر اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار پر قدغنیں لگائی جا رہی ہیں، جس سے معاشرے میں خوف اور بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ صرف معاشی مسائل ہی نہیں بلکہ صحت، تعلیم اور نقل و حمل سمیت دیگر پبلک سروسز کا معیار بھی انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی اور تعلیمی اداروں کی ابتر حالت نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے مشکلات دوچھر کر دی ہیں۔ عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر ان دیرینہ مسائل کا فوری اور مؤثر حل تلاش نہ کیا گیا تو ملک ایک نئے سیاسی اور سماجی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔