World
انگلینڈ اور ویلز میں معاون موت کی قانونی حیثیت پر اہم ووٹنگ
انگلینڈ اور ویلز میں معاون موت کو قانونی شکل دینے کی تجویز پر اراکین پارلیمنٹ دوبارہ رائے شماری کریں گے۔ اس سے قبل رواں سال کی ابتدا میں اکثریت نے اس کی تائید کی تھی مگر قانون سازی میں تاخیر ہو گئی تھی۔
انگلینڈ اور ویلز میں انتہائی بیمار اور زندگی کی آخری سانسیں لینے والے افراد کے لیے معاون موت (assisted dying) کو قانونی شکل دینے کے معاملے پر برطانوی پارلیمنٹ میں ایک بار پھر گرما گرم بحث اور اہم رائے شماری متوقع ہے۔ اس تجویز کے تحت سنگین اور لاعلاج بیماریوں میں مبتلا افراد کو طبی نگرانی میں اپنی زندگی کے خاتمے کا قانونی اختیار دینے پر غور کیا جا رہا ہے، جس نے معاشرے میں اخلاقی اور قانونی مباحث کو جنم دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل رواں سال کے اوائل میں بھی اراکین پارلیمنٹ کی ایک بڑی اکثریت نے اس تجویز کی تائید کی تھی، جس سے قانون بننے کی امیدیں روشن ہو گئی تھیں۔ تاہم، پارلیمانی مراحل اور ایوان بالا کے اراکین (پیرز) کی طرف سے اٹھائے گئے تحفظات اور مباحث کی وجہ سے اس کی پیشرفت رک گئی تھی اور یہ بل مقررہ وقت میں قانون کی شکل اختیار نہیں کر سکا تھا۔
اب اس معاملے کو دوبارہ پارلیمنٹ کے ایوان میں لایا جا رہا ہے جہاں اراکین اس پر از سر نو غور کریں گے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس سے ناقابل برداشت اذیت میں مبتلا مریضوں کو باعزت طریقے سے مرنے کا حق ملے گا، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے کمزور اور معمر افراد کی جان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور طبی اخلاقیات پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس رائے شماری کے نتائج برطانوی معاشرے اور قانون سازی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے۔