World
سری لنکا: ایسٹر بم دھماکے نہ روکنے پر دو عہدیداروں کو سزائے موت
سری لنکا کی ایک عدالت نے 2019 کے تباہ کن ایسٹر بم دھماکوں کو بروقت روکے جانے میں ناکامی پر ملک کے دو اہم ترین سکیورٹی عہدیداروں کو سزائے موت کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس سانحے کے متاثرین کے لیے انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سری لنکا کی ایک عدالت نے سنہ 2019 کے تباہ کن ایسٹر بم دھماکوں کو روکنے میں غفلت برتنے اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر دو اعلیٰ ترین سکیورٹی عہدیداروں کو سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کو ملک کی تاریخ کے ایک سیاہ باب سے جڑے انصاف کے حصول کی جانب ایک بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ان بم دھماکوں کے نتیجے میں سینکڑوں معصوم افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی بھی شامل تھی۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اگر متعلقہ سکیورٹی اداروں اور ذمہ داران نے بروقت انٹیلی جنس رپورٹس پر عمل درآمد کیا ہوتا تو اس انسانی المیے کو باآسانی روکا جا سکتا تھا۔ اس افسوسناک غفلت پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا اور عوام مسلسل یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ اس ناکامی کے ذمہ دار تمام عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے۔
فصلہ سناتے ہوئے معزز جج نے اس بات پر زور دیا کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز افراد کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک اور عوام کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں اور اگر وہ اپنے فرائضِ منصبی میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا ناگزیر ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ان دو عہدیداروں کے پاس حملوں سے قبل کے روز اطلاعات اور رپورٹس موجود تھیں لیکن انہوں نے وقت پر مناسب اقدامات نہیں اٹھائے جس کی وجہ سے یہ ہولناک سانحہ رونما ہوا۔
اس فیصلے کے بعد ملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں متاثرہ خاندانوں اور عام شہریوں نے اس فیصلے کو بروقت اور انصاف پر مبنی قرار دیا ہے، وہیں دوسری طرف بعض انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سانحے کے پیچھے کارفرما تمام سیاسی اور بالادست عناصر کو بھی بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں سکیورٹی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں زیادہ احسن طریقے سے نبھانے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نبرد آزما ہونے کا درس دے گا۔