World
ہانگ کانگ میں تینانامن کارکنوں کو قید کی سزائیں
ہانگ کانگ کی ایک عدالت نے 1989 کے خونریز کریک ڈاؤن کی یاد منانے والے کارکنوں کو سخت سزائیں سنا دی ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے میں سیاسی آزادیوں کو کس طرح محدود کیا جا رہا ہے۔
ہانگ کانگ کی عدالت نے 1989 کے بیجنگ کے تینانامن اسکوائر کے خونریز کریک ڈاؤن کی یادگار منانے والے سرکردہ کارکنوں کو سات سال تک قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیاسی سرگرمیوں اور اختلافِ رائے پر حکومتی گرفت انتہائی سخت ہو چکی ہے اور ماضی کی روایت تیزی سے دم توڑ رہی ہے۔
واضح رہے کہ ہانگ کانگ طویل عرصے تک چینی خطے کا وہ واحد حصہ سمجھا جاتا تھا جہاں عوام کو 1989 کے المناک واقعات کے شہداء کی یاد میں پُرامن اجتماعات کرنے اور شمعیں روشن کرنے کی اجازت حاصل تھی۔ یہ تقریبات ہانگ کانگ کی روایات کا ایک اہم حصہ تھیں جو کہ اب سکیورٹی قوانین کے نفاذ کے بعد سخت پابندیوں کی زد میں آ چکی ہیں۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس عدالتی فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اظہارِ رائے کی آزادی پر ایک اور کاری ضرب قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سزاؤں سے ہانگ کانگ میں سیاسی آزادیوں کا باب مزید محدود ہو گیا ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
دوسری جانب، مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے قانون کی بالادستی اور ملکی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر تھے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے سخت اقدامات سے خطے کی سیاسی اور سماجی فضا میں گہرا اثر پڑے گا اور آنے والے دنوں میں احتجاجی یا یادگاری سرگرمیوں کے انعقاد کے امکانات مزید کم ہو جائیں گے۔