Technology
برنی سینڈرز کی اے آئی سپر انٹیلی جنس پر پابندی کی تجویز
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سپر انٹیلی جنس پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پر تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ امریکہ کو مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی کمپنیوں میں پچاس فیصد حصہ داری حاصل کرنی چاہیے۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے حوالے سے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی کی تیز رفتار ترقی اور اس کے ممکنہ انسانی معاشرے پر اثرات کے بارے میں بحث جاری ہے۔ سینیٹر سینڈرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے شعبے کو غیر منظم چھوڑ دیا گیا تو یہ انسانیت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
انٹرویو کے دوران برنی سینڈرز نے ایک انتہائی اہم اور بحث طلب تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کو سپر انٹیلی جنس اے آئی سسٹمز پر پابندی یا سخت ترین ضابطے عائد کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں انسانی مفادات کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے اور چند نجی کمپنیاں اس طاقت کو اپنے ہاتھ میں مرکوز کر رہی ہیں جو کہ جمہوری اقدار اور عام انسانوں کے روزگار کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، سینیٹر نے ایک اور انقلابی تجویز کا بھی ذکر کیا جس کے تحت امریکہ میں ایک 'سوورین ویلتھ فنڈ' قائم کیا جانا چاہیے۔ اس مجوزہ فنڈ کے ذریعے امریکی حکومت مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں میں کم از کم پچاس فیصد تک کی حصہ داری یا ملکیت حاصل کر سکتی ہے۔ برنی سینڈرز کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے ٹیکنالوجی کے فوائد چند ارب پتیوں تک محدود رہنے کے بجائے براہ راست عام عوام اور ریاست تک پہنچ سکیں گے۔
مجموعی طور پر برنی سینڈرز کے یہ بیانات ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز کر رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف صنعت کے ماہرین اے آئی کو ترقی کا زینہ قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف سیاسی رہنما اس کی بے لگام ترقی کو روکنے کے لیے قانونی اور معاشی ہتھکنڈوں پر غور کر رہے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی قانون ساز ان تجاویز کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتے ہیں اور مستقبل میں اس حوالے سے کیا پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔