LIVE
Loading Breaking News...

انتروپیک کلاڈ اے آئی کا میزائل اور جاسوسی میں استعمال کا انکشاف

News Image
ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل کلاڈ کو یمن میں میزائل گائیڈنس سافٹ ویئر کی تیاری اور مختلف سائبر جاسوسی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ انتروپیک نے اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی انتروپیک نے ایک نئے انکشاف میں بتایا ہے کہ ان کے اے آئی ماڈل 'کلاڈ' کو مبینہ طور پر میزائل پروجیکٹس اور عالمی جاسوسی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ چونکا دینے والے انکشافات ایک تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں جس نے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال اور سکیورٹی خدات پر ایک بار پھر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی اس جدید ٹیکنالوجی کو ہتھیاروں کی تیاری کے سلسلے میں اہم معاونت کے طور پر برتا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کلاڈ اے آئی کو خاص طور پر یمن میں میزائل گائیڈنس سافٹ ویئر کی تیاری کے عمل میں استعمال کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔ جنگی مقاصد کے لیے اے آئی کا یہ استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عسکری ادارے اب جدید ترین ڈیجیٹل سسٹمز اور لارج لینگویج ماڈلز کو اپنے تخریب کاری اور دفاعی منصوبوں میں شامل کرنے لگے ہیں۔ میزائل نیویگیشن اور ہدف کی درستگی کے لیے اس قسم کی سافٹ ویئر سپورٹ عسکری تنازعات کی نوعیت کو یکسر بدل رہی ہے۔ میزائل پروجیکٹس کے علاوہ اس اے آئی ٹیکنالوجی کو مختلف نوعیت کی سائبر آپریشنز اور عالمی جاسوسی کی کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ڈیجیٹل جاسوسی اور نیٹ ورک کی سکیورٹی میں نقب لگانے کے لیے طاقتور الگورتھمز کا استعمال ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت عام اور زیادہ طاقتور ہوتی جا रही ہے، ویسے ہی اس کے غلط ہاتھوں میں جانے کے خطرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ انتروپیک اور دیگر بڑی اے آئی کمپنیاں اب اپنے پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اور پالیسیاں نافذ کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں اے آئی کے ضابطہ اخلاق اور ریاستی سطح پر اس کی نگرانی کے مطالبات میں مزید تیزی آ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اے آئی کے عسکری استعمال کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ دنیا بھر کے امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بن سکتا ہے۔