LIVE
Loading Breaking News...

نئی دہلی میں برکس کا استقبال اور شہریوں کا احتجاج

News Image
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں برکس کی تقریبات کے سلسلے میں کیے جانے والے انتظامات اور سڑکوں کی بندش نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے پابندیوں اور جبری بے دخلیوں پر عوام میں سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اس وقت شدید تناؤ اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے جب حکام کی جانب سے برکس (BRICS) کے سفارتی وفود اور تقریبات کے لیے ریڈ کارپٹ استقبالیہ تیار کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس شاندار استقبال کے پس منظر میں عام شہریوں، مقامی تاجروں اور مکینوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس نے حکومت کے خلاف ایک شدید غصے کی لہر کو جنم دیا ہے۔ شہر بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کے نام پر اہم شاہراؤں اور سڑکوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے روزمرہ کا نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اس بین الاقوامی تقریب کو کامیاب بنانے کے لیے انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں اور بعض مقامات پر مکینوں کو جبری طور پر بے دخل بھی کیا گیا ہے۔ ان اقدامات نے نہ صرف عام شہریوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اچانک اور سخت پابندیوں سے ان کے روزگار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ حکومت بین الاقوامی مہمانوں کی خوشنودی کے لیے عام عوام کے بنیادی حقوق اور سہولیات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں عوام کی جانب سے انتظامیہ کے اس رویے پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ سیاسی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے بھی حکومت کی ان پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی تقریبات کا انعقاد ملک کے لیے اہم سہی، لیکن اس کے لیے عام شہریوں کے مسائل میں اضافہ کرنا کسی طور پر درست نہیں۔ دہلی کے باسیوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک کی طویل بندش اور پابندیوں نے ان کی زندگی اجنبی بنا دی ہے اور اگر حکام نے اس صورتحال کا فوری نوٹس نہ لیا تو یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔