LIVE
Loading Breaking News...

ریپبلکن پارٹی میں پھوٹ: نوجوان اراکین کی ایران جنگ کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ سے مخالفت

News Image
آر این سی مڈٹرم کنونشن کے دوران ریپبلکن پارٹی کے اندر نوجوان اور بزرگ رہنماؤں کے درمیان واضح خلیج سامنے آ گئی ہے۔ نوجوان ریپبلکنز نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگی کشیدگی کے معاملے پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے شدید اختلاف کا اظہار کیا ہے۔
امریکی سیاست میں ایک اہم اور قابلِ ذکر موڑ اس وقت سامنے آیا جب ریپبلکن پارٹی کے اندر نوجوان نسل کے رہنماؤں اور روایتی بزرگ قیادت کے درمیان نظریاتی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ آر این سی مڈٹرم کنونشن کے دوران ہونے والے مباحثوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پارٹی کی آنے والی نسل خارجہ پالیسی بالخصوص ایران کے ساتھ تنازعے کے معاملے پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔ روایتی طور پر پارٹی میں سخت گیر مؤقف کی حمایت کی جاتی رہی ہے مگر نوجوان ریپبلکنز اس معاملے میں زیادہ محتاط اور امن پسندانہ رویہ اپنانے کے حامی دکھائی دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حالیہ کنونشن میں نوجوان مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں کسی بھی نئی اور طویل جنگ میں الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ غیر ضروری جنگیں نہ صرف ملکی معیشت پر بوجھ بنتی ہیں بلکہ اس سے عام امریکی شہریوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کے خلاف ماضی میں اختیار کیے گئے سخت احکامات اور بیانات کو نوجوان اراکین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی کے اندر سوچ کا انداز بدل رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ generational divide یعنی نسلوں کا فرق آنے والے صدارتی اور وسطی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی حکمتِ عملی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ تاحال پارٹی کا ایک طاقتور اور مرکزی ستون بنے ہوئے ہیں، تاہم نوجوان طبقے میں ان کی بعض پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ پارٹی کے اندر ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی پنڈتوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا آئندہ دنوں میں ریپبلکن پارٹی اپنی روایتی خارجہ پالیسی میں کوئی لچک پیدا کرے گی یا نہیں۔