World
ٹائمز اسکوائر میں چارلی کرک مجسمے کی تقریب پر ہنگامہ
نیویارک کے مصروف ٹائمز اسکوائر میں قدامت پسند شخصیت چارلی کرک کے مجسمے کی نقاب کشائی کے موقع پر شدید ہنگامہ آرائی دیکھی گئی۔ تقریب کے دوران حامیوں اور مظاہرین کے مابین جھگڑے کے باعث پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔
نیویارک کے مشہور اور انتہائی مصروف کاروباری مرکز ٹائمز اسکوائر میں اس وقت شدید بدنظمی اور افراتفری پھیل گئی جب معروف قدامت پسند شخصیت چارلی کرک کے اعزاز میں ایک نئے مجسمے کی نقاب کشائی کی جا رہی تھی۔ اس تقریب کے انعقاد کے ساتھ ہی وہاں موجود مختلف نظریات کے حامل گروہوں کے درمیان شدید لفظی تکرار شروع ہو گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے جسمانی جھگڑوں میں تبدیل ہو گئی۔ موقع پر موجود شائقین اور منتظمین اس صورتحال کے لیے بالکل تیار نہیں تھے، جس کی وجہ سے پولیس کو فوری طور پر امن و امان کی بحالی کے لیے قدم اٹھانا پڑا۔
ذرائع کے مطابق، ایک طرف چارلی کرک کے حامی بڑی تعداد میں جمع تھے جو اس تقریب کا جشن منا رہے تھے اور نعرے بازی کر رہے تھے، تو دوسری طرف بڑی تعداد میں مظاہرین بھی وہاں پہنچ گئے جنہوں نے اس مجسمے اور تقریب کی شدید مخالفت کی۔ دونوں فریقین کے درمیان نعرے بازی کا سلسلہ تلخ کلامی میں بدلا اور پھر ماحول شدید کشیدہ ہو گیا۔ دونوں گروہوں کے افراد کے درمیان دھکم پیل اور ہاتھا پائی کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے، جس سے ٹائمز اسکوائر کا امن خطرے میں پڑ گیا اور عام سیاحوں و راہگیروں میں بھی خوف و ہراس پھیل گیا۔
صورتحال کے بے قابو ہونے کے فوری بعد نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ نے بھاری نفری کو جائے وقوعہ پر روانہ کر دیا۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے اور دونوں متصادم گروہوں کو الگ کرنے کے لیے حکمت عملی کے تحت کارروائی کی تاکہ مزید ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ پولیس نے کئی مشتبہ افراد کو قابو میں کرنے کی کوشش کی اور سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد ٹائمز اسکوائر کے اس حصے میں ٹریفک کی روانگی بھی کچھ دیر کے لیے متاثر ہوئی اور انتظامیہ نے سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا۔
اس واقعے نے امریکہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور نظریاتی تقسیم کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ چارلی کرک جو کہ ایک معروف امریکی قدامت پسند کارکن اور مبصر ہیں، ان کی شخصیت پر ملک بھر میں شدید آراء پائی جاتی ہیں۔ ان کے حامی انہیں آزادیِ اظہار کا علمبردار سمجھتے ہیں جبکہ ناقدین ان کے خیالات پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ ٹائمز اسکوائر میں پیش آنے والے اس پرتشدد واقعے کے بعد شہری انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے آئندہ کے لیے عوامی اجتماعات اور تقریبات کے حوالے سے سکیورٹی کے سخت ترین اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔