LIVE
Loading Breaking News...

مادورو کی اہلیہ کی امریکی حراست سے گھر منتقلی کی درخواست

News Image
نکولس مادورو کی اہلیہ کے وکلاء نے ان کی بگڑتی ہوئی قلبی حالت کے پیش نظر گھر میں نظر بندی کی درخواست دائر کی ہے۔ وکلاء کا مؤقف ہے کہ موجودہ حراستی مرکز میں وہ طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا سکتیں جو ان کی صحت کے لیے ضروری ہیں۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی اہلیہ کے قانونی نمائندوں نے امریکی حراست کے دوران ان کی بگڑتی ہوئی صحت اور دل کے امراض کے پیش نظر عدالت میں ایک نئی درخواست دائر کی ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ موصوفہ کی قلبی حالت دن بہ دن نازک ہوتی جا رہی ہے اور موجودہ حراستی مرکز میں وہ طبی سہولیات اور بحالی کا ماحول میسر نہیں ہے جو اس نوعیت کے امراض میں مبتلا مریض کے لیے انتہائی لازمی ہے۔ ذرائع کے مطابق وکلاء نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر انہیں فوری طور پر مناسب طبی علاج اور سازگار ماحول فراہم نہ کیا گیا تو ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ حراستی مرکز کے اندر کے حالات علاج معالجے کے لیے موزوں نہیں ہیں، اسی لیے یہ قانونی چارہ جوئی کی گئی ہے کہ انہیں گھر میں نظر بندی کی اجازت دی جائے تاکہ وہ کسی اچھے اسپتال یا طبی نگرانی میں اپنی صحت بحال کر سکیں۔ اس معاملے پر امریکی حکام کی جانب سے تاحال کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور قانونی ماہرین اس کیس کو بڑی قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ قانونی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے سنگین طبی مسائل میں عدالتیں اکثر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نرمی کا مظاہرہ کرتی ہیں، تاہم حراست کی نوعیت اور سیاسی پس منظر کی وجہ سے فیصلہ متوقع طور پر پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ آئندہ دنوں میں اس کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کی جانب سے مزید طبی رپورٹس پیش کی جانے کی توقع ہے، جن کی روشنی میں عدالت فیصلہ کرے گی کہ آیا مادورو کی اہلیہ کو حراستی مرکز سے منتقل کر کے گھر میں نظر رکھنے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اس اہم اور حساس معاملے کی طرف مبذول کرا دی ہے۔